Dec ۱۰, ۲۰۱۹ ۱۹:۲۸ Asia/Tehran
  • روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کیس کی ہیگ کی عدالت میں سماعت

میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام اور نسل کشی کےمقدمے کی ہیگ کی بین الاقوامی عدالت میں سماعت شروع ہوئی۔

دو ہزار سترہ میں میانمار کی فوج کے ہاتھوں روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام  کےبارے میں اقوام متحدہ کی اعلی ترین عدالت نے ستاون اسلامی ملکوں کی نمائندگی میں حکومت گامبیا کی شکایت اور دائر کئے گئے مقدمے کی سماعت کی۔

میانمار کی حکمراں جماعت کی سربراہ اور وزیرخارجہ آنگ سان سوچی جنھیں انیس سو اکیانوے میں انسانی حقوق اور جمہوریت کے دفاع کے لئے نوبل انعام بھی مل چکا ہے ہیگ کی عدالت میں پہلی نشست میں موجود تھیں۔ اقوام متحدہ کی تحقیقاتی ٹیم نے گذشتہ اکتوبر کے مہینے میں خبردار کیاتھا کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ میانمار میں نسل کشی کی گئی ہے۔ اقوام متحدہ کی مذکورہ ٹیم نے کہا تھا کہ میانمار کی حکومت کو بین الاقوامی اداروں میں اس نسل کشی کا ذمہ قرار دیا جانا چاہئے۔

پچیس اگست دوہزار سترہ سے اب تک چھے ہزار سے زائد روہنگیا مسلمانوں کاقتل عام کیا جاچکا ہے جبکہ آٹھ ہزار دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ اس عرصے میں دس لاکھ سے زائد روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش کی سرحد کے اندر فرار کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

ٹیگس

کمنٹس