سابق امریکی صدر نے ورجینیا میں نسل پرستوں کے اقدامات کی مذمت کی ہے جبکہ امریکہ کے دیگر سیاستدانوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے رویئے کو ورجینیا میں نسلی کشیدگی میں اضافہ کی بڑی وجہ قرار دیا ہے۔

سابق امریکی صدر باراک اوباما نے ورجینیا کے شہر شارلٹس ویل میں نسل پرست سفید فام گروہ کے اقدامات کو نسل پرستانہ اور نفرت انگیز قرار دیا ہے۔امریکہ کے بہت سے سیاستدانوں نے بھی نسل پرست گروہوں کی سرگرمیوں اور اقدامات پر وائٹ ہاؤس کی خاموشی کی مذمت کی ہے۔ریاست ورجینیا کے شہر شارلٹس ویل میں انتہائی دائیں بازو کے نسل پرست گروہوں اور مخالفین کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے بعد امریکہ کی دونوں جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سینیٹروں اور عہدیداروں نے، صدر ٹرمپ کے ردعمل کو نامناسب قرار دیتے ہوئے شہر میں تشدد کے پھیلاؤ کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔سابق امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے بھی ورجینیا میں ہونے والی جھڑپوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اب تک غیروں کی مذمت کرتا آیا ہے لیکن اب اسے اپنے اندر سے احتساب شروع کرنا چاہیے۔امریکی عہدیداروں اور سینیٹروں نے بھی یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ صدر ٹرمپ تشدد کی روک تھام کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں پر عمل نہیں کر رہے ہیں۔ورجینیا میں جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے نسل پرست گروہوں نے شارلٹس ویل کے ایک پارک میں نصب مجسمہ ہٹائے جانے کے خلاف احتجاج شروع کیا۔ یہ مجسمہ امریکی خانہ جنگی کے دوران ورجینین آرمی کے کمانڈر رابرٹ ای لی کا تھا جو امریکہ میں سیاہ فاموں کی غلامی کا کٹر حامی تھا۔ورجینیا کی پولیس کے مطابق اس دوران ہونے والی جھڑپوں میں کم سے کم تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ورجینیا کے گورنر ٹیری مک آلف نے شارلٹس ویل میں ایمرجنسی نافذ کردی ہے۔ریاستی عہدیداروں نے کہا ہے کہ قوم پرست سفید فام دھڑے، اور انتہائی دائیں بازو کے انتہا پسند گروہ پر تشدد مظاہروں کے اصل ذمہ دار ہیں۔امریکہ میں نسل پرستوں کے پرتشدد مظاہروں کے بعد سی این این ٹیلی ویژن نے بھی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر کڑی نکتہ چینی کی ہے۔صدر ٹرمپ کا دور صدارت شروع ہوتے ہی امریکہ میں نسلی برتری کے حامی سفید فام گروہوں کی سرگرمیوں میں زبردست اضافہ ہوگیا ہے۔ کے کے کے نامی نسل پرست گروہ کو صدر ٹرمپ کا سب سے بڑا حامی گروہ تصور کیا جاتا ہے۔ سرکاری سطح پر جاری ہونے والے اعداد وشمار کے مطابق امریکہ میں اسلام مخالف اقدامات میں بھی سفیدفاموں کے نسل پرست گروہ ملوث ہیں۔

Aug ۱۳, ۲۰۱۷ ۱۱:۳۹ UTC
کمنٹس