Apr ۰۴, ۲۰۲۱ ۱۶:۲۳ Asia/Tehran
  • امریکہ کی ظالمانہ پابندیوں کے ایک ساتھ خاتمے پر پارلیمنٹ کی تاکید

ایران کی پارلیمنٹ مجلس شورائے اسلامی کے ارکان نے ایک بیان جاری کرکے امریکی پابندیوں کی منسوخی کے لئے پارلیمنٹ کے اسٹریٹیجک ایکشن قانون کے نفاذ اورسبھی پابندیوں کو ایک ساتھ ختم کئے جانے کے تعلق سے اسلامی جمہوریہ ایران کی شرط پر تاکید کی ہے -

ایران کی پارلیمنٹ مجلس شورائے اسلامی کے ارکان نے اتوار کے روز ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی حتمی پالیسی، ایٹمی معاہدے کے فریقوں کو سبھی پابندیاں ختم کرانے کے لئے پابند بنانا اور پابندیاں ختم نہ ہونے کی صورت میں ان پابندیوں کو غیر موثر بنانا نیز اقتصادی میدانوں میں پیشرفت کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ عوام کی معاشی  حالت کو اوپر لے جانا ہے -

اس بیان میں کہا گیا ہے کہ مجلس شورائے اسلامی کے قانون کی شقوں اور ایرانی حکام خاص طور سے رہبر انقلاب اسلامی کی تاکیدات کی بنیاد پر ایران کے خلاف عائد ظالمانہ اور غیر قانونی پابندیوں کا ایک ساتھ خاتمہ کیا جانا ضروری ہے اورعملی میدان میں پابندیوں کے خاتمے کی تصدیق ہوجانے سے متعلق حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ کے  قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے کمیشن میں رپورٹ پیش کردئے جانے اورسرانجام پارلیمنٹ کی جانب سے دوبارہ بل کی منظوری کے بعد ہی ایٹمی معاہدے میں امریکا کی واپسی ممکن ہوسکے گی -
اس بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایرانی قوم کے خلاف ظالمانہ اور غیر قانونی پابندیاں جو امریکہ کی سابق اوباما اور ٹرمپ کے دورحکومت میں مسلط کی گئی ہیں، ایک ساتھ ختم ہونے کی ضرورت ہے اور اس راہ میں معاہدے کے فریقوں یعنی گروپ چارجمع ایک اور امریکہ کے ساتھ متوازن اقدامات کے لئے کسی بھی قسم کے مذاکرات،  عملی طور پر ایرانی قوم کے مفادات کے نقصان میں ہیں جو ناقابل قبول ہیں یعنی پابندیوں کے خاتمے کے بغیر کسی بھی بہانے امریکا کے ساتھ مذاکرات نہیں ہوسکتے-

   ایران کے پارلیمانی اراکین نے اپنے بیان میں باہمی احترام کی بنیاد پر دنیا کے مختلف ملکوں منجملہ چین کے ساتھ دوطرفہ اسٹریٹیجک تعلقات کی توسیع کا خیرمقدم کیا اور کہا ہے کہ کسی بھی طرح کے ایسے معاہدے کو جس پر فریقوں کو عمل درآمد کا پابند بنایا گیا ہو آئین کے مطابق پارلیمنٹ سے منظوری لینا ضروری ہے -

  اس درمیان ایران کی پارلیمنٹ کے قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیشن کے ترجمان نے کہا ہے کہ جب تک ایران کے خلاف پابندیاں ایک ساتھ ختم نہیں ہو جاتیں اور عملی طور پر پابندیوں کی منسوخی کا اقدام ثابت نہیں ہو جاتا ایران ایٹمی معاہدے سے متعلق اپنے وعدوں پر عمل کرنا شروع نہیں کرے گا اور امریکہ ایٹمی معاہدے کے فریق ملکوں کے مذاکرات میں شریک بھی نہیں ہوسکے گا۔

ایران کی پارلیمنٹ کے قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیشن کے ترجمان ابوالفضل عموئی نے اتوار کے روز اور پارلیمنٹ کے کھلے اجلاس کے موقع پر نامہ نگاروں سے گفتگو میں ایٹمی معاہدے سے متعلق  مشترکہ کمیشن کے اجلاس کے بارے میں پارلیمنٹ کے خارجہ پالیسی و قومی سلامتی کمیشن کی نشست سے متعلق کہا ہے کہ اس نشست میں سیاسی امور میں ایران کے نائب وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے ایٹمی معاہدے کے فریق ملکوں کے آنلائن اجلاس میں ہونے والی گفتگو کے بارے میں ایک رپورٹ پیش کی ہے اور تاکید کی گئی ہے کہ آئندہ منگل کو ویانا میں ہونے والے اجلاس میں اسلامی جمہوریہ ایران اور امریکہ کے درمیان براہ راست یا بالواسطہ طور پر کسی بھی قسم کے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔

 

ٹیگس