• ایٹمی معاہدے کو باقی رکھنے کے لئے 28 یورپی ممالک میں سمجھوتہ

یورپی یونین کے اٹّھائیس رکن ملکوں کے سربراہوں نے ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے کو بچانے کے لئے ایک متحدہ موقف رکھنے پراتفاق کیا ہے

یورپی یونین کے اٹّھائیس رکن ملکوں کے سربراہوں نے  بلغاریہ کے دارالحکومت صوفیہ میں ہونے والے اجلاس میں ایران کے ساتھ طے شدہ ایٹمی معاہدے کو بچانے کے لئے یکساں موقف اپنانے پر زور دیا ہےایک یورپی ذریعے نے اعلان کیا ہے کہ یورپی یونین کے اٹّھائیس رکن ملکوں کے سربراہوں میں ایٹمی معاہدے کو باقی رکھنے کے بارے میں مکمل اتفاق رائے پایاجاتا ہے - یورپی کونسل کے چیئرمین دونلڈ ٹسک نے بھی امریکی صدر ٹرمپ کے رویے کو نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ایٹمی معاہدے سے امریکہ کے نکلنے کے بعد یورپی یونین کو اس فیصلے کے مقابلے میں ڈٹ جانے کی ضرورت ہے۔انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ جب تک ایران ایٹمی معاہدے پر کاربند ہے یورپی ممالک کے رہنما بھی اس معاہدے سے اپنی وابستگی برقرار رکھیں اور معاہدے سے متعلق اپنے وعدوں پر عمل کریں گے-  یورپی کونسل کے چیئرمین نے بھی امریکی اقدام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یورپی ممالک کو امریکی صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کرنا چاہئے کہ ان کی وجہ سے یورپی ممالک ہر طرح کے شش و پنج سے باہر آگیا - دریں اثنا یورپی یونین کے اندرونی امور کے انچارج ڈیمٹریس آورا موپولوس نے ایسے قانون کا جائزہ لئے جانے کا اعلان کیا ہے کہ جس کی بنیاد پر یورپی کمپنیاں ایران کے خلاف امریکی پابندیوں سے بچ سکیں ، انھوں نے کہا کہ پابندیوں کے قانون کا جائزہ لئے جانے پر واضح ہوا ہے کہ یورپی ممالک، ضرورت پڑنے پر اس قانون پر عمل کر سکتے ہیں۔ان کا اشارہ سن  انّیس سو چھیانوے کے اس بل کی طرف ہے جو کیوبا، ایران اور لیبیا کے خلاف امریکی پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار کیا گیا تھا جس کے بعد امریکہ پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوگیا تھا۔اس قانون میں یورپی ملکوں کو امریکہ کی جانب سے پابندیوں پر عمل کئے جانے سے روکا گیا ہے اور امریکہ کی جانب سے یورپی ملکوں اور کمپنیوں کے خلاف ممکنہ جرمانے کو بھی تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

ایٹمی معاہدے سے امریکہ کے نکلنے کے بعد اس بین الاقوامی معاہدے کو باقی رکھنے کے لئے یہ بھی ایک آپشن ہے

۔واضح رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے آٹھ مئی کو ایران کے خلاف بے بنیاد الزامات کا اعادہ کرتے ہوئے ایٹمی معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی اور تین سے چھے ماہ کے اندر ایران کے خلاف جوہری پابندیوں کو دوبارہ نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ایٹمی معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی کے اعلان کے بعد ایران کے اعلی حکام نے بھی صراحت  کے ساتھ کہا ہے کہ معاہدے میں شامل تینوں یورپی ملکوں نے اگر ایٹمی معاہدے کو باقی رکھنے کے بارے میں کوئی عملی ضمانت نہیں دی اور اس معاہدے سے ایران کے مفادات پورے نہ ہوئے تو ایران بھی اس معاہدے میں بافی رہنے یا نہ رہنے کے بارے میں اپنا خود فیصلہ کرے گا۔

ٹیگس

May ۱۷, ۲۰۱۸ ۱۴:۳۳ Asia/Tehran
کمنٹس