• ٹرمپ کی سعودی نوازی پر امریکیوں کی تنقید

امریکا کے سابق صدر اوباما کے دور میں قومی سلامتی کی مشیر سوزان رائس نے ڈونلڈ ٹرمپ کو سعودی حکام کا بہترین دوست قراردیا ہے۔

امریکا کی قومی سلامتی کی سابق مشیر سوزان را‏ئس نے کہا ہے کہ موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کو آل سعود کی خدمت میں لگادیا ہے۔
انھوں نے روز نامہ نیویارک ٹائمز میں اپنے ایک مقالے میں ، سعودی عرب اور کینیڈا کی کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس تنازعے میں ٹرمپ حکومت نے امریکی اتحادی یعنی کینیڈا کا ساتھ دینے کے بجائے، سعودی حکام کی بدسلوکی کو برداشت کیا ہے۔
انھوں نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ امریکی وزارت خارجہ نے سعودی عرب اور کینیڈا کے تنازعے میں، دونوں ملکوں سے اپنے اختلافات سفارتی طریقے سے حل کرنے کی اپیل کی ہے، کہا کہ امریکی وزارت خارجہ کی یہ اپیل، سعودی خلاف ورزیوں کی پردہ پوشی اور سعودی عرب میں انسانی حقوق کی پامالی پر تنقید سے گریز کا ثبوت ہے۔
امریکا کی قومی سلامتی کی سابق مشیر سوزان رائس کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں انسانی حقوق کی پامالی پر ٹرمپ حکومت کے طرزعمل کے باعث یورپ والوں نے بھی اس سلسلے میں لاتعلقی سے کام لیا اور اپنے عمل سے سعودی حکام کو یہ پیغام دیا کہ وہ بے خوف ہوکے انسانی حقوق کی پامالی کا سلسلہ جاری رکھیں۔
سوزان رائس کا کہنا ہے کہ امریکا کا موقف سعودی ولی عہد بن سلمان کو انسانی حقوق کی پامالی اور دیگر خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری رکھنے کا مکمل اختیار دینے کے مترادف ہے۔
امریکا کی قومی سلامتی کی سابق مشیر سوزان رائس نے کہا ہے کہ ٹرمپ نے نا معلوم وجوہات سے بن سلمان کو یہ پیغام دیا ہے کہ امریکا ان کی خدمت میں ہے۔
امریکا کی قومی سلامتی کے سابق مشیر سوزان رائس نے لکھا ہے کہ سب سے زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ سعودی ولی عہد بن سلمان اور ان کے علاقائی اتحادیوں نے ٹرمپ حکومت سے درخواست کی ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والے جامع ایٹمی معاہدے سے امریکا کو نکال لیں، پابندیاں دوبارہ لگادیں اور ایران کےساتھ لڑائی کی صورتحال وجود میں لائیں۔

Aug ۱۰, ۲۰۱۸ ۱۶:۵۱ Asia/Tehran
کمنٹس