Jun ۲۹, ۲۰۱۹ ۱۴:۰۸ Asia/Tehran
  • مذاکرات میں پیشرفت ہوئی ہے لیکن ایران کے موقف کی تبدیلی کے لیے کافی نہیں

ایران کے نائب وزیر خارجہ اور سینیئر ایٹمی مذاکرات کار سید عباس عراقچی نے ویانا اجلاس کو مثبت قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ آئندہ چند روز کے دوران انسٹیکس کے ذریعے ایران اور یورپ کے درمیان مالیاتی لین کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔

سید عباس عراقچی نے ویانا میں ہونے ایٹمی معاہدے کے مشترکہ کمیشن کے اجلاس کے بارے میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ تین یورپی ملکوں نے انسٹیکس کے حوالے سے بعض اقدامات انجام دیئے ہیں لیکن یہ اقدامات ایرانی توقعات پر پورا نہیں اترتے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اجلاس کے نتائج ایٹمی معاہدے کے حوالے سے ایران کے موقف کو تبدیل کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔ ان کا اشارہ ایران کی جانب سے یورپی ملکوں کو دی جانے والی ساٹھ روزہ مہلت اور بصورت دیگر ایران کی جانب سے ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد کی سطح میں مزید کمی کے اعلان کی جانب تھا۔  
سید عباس عراقچی نے کہا کہ بتایا کہ اس اجلاس میں اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ وزرائے خارجہ کی سطح پر ایٹمی معاہدے کے مشترکہ کمیشن کا اجلاس جلد بلایا جائے۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ اور سینیئر ایٹمی مذاکرات کار کا کہنا تھا کہ دیگر یورپی ممالک بھی خصوصی مالیاتی نظام انسٹیکس میں حصہ دار بننا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انسٹیکس کے دروازے تمام یورپی ملکوں کے لیے کھلے ہوئے ہیں اور وہ اس نظام  کے ذریعے ایران کے ساتھ تجارتی اور مالیاتی لین دین کر سکتے ہیں۔
 سید عباس عراقچی نے یہ بات زور دے کر کہی کہ یورپی ممالک کو ایرانی تیل کی فروخت کو یقینی بنانے کے معاملے پر سنجیدگی سے غور کرنا ہو گا جبکہ اراک کے ایٹمی ری ایکٹر کے بارے میں تمام ارکان نے اس بات  کا عہد کیا ہے کہ اس ری ایکٹر کی تعمیر کا کام مقررہ وقت میں مکمل کیا جائے گا۔
 ایٹمی معاہدے کے مشترکہ کمیشن کا اجلاس جمعے کی شام ویانا میں ختم ہو گیا جس میں ایران اور چار جمع ایک گروپ کے نائب وزرائے خارجہ اور متعلقہ عہدیداروں نے شرکت کی۔
 دوسری جانب یورپی یونین کی ڈپٹی فارن پالیسی چیف ہیلگا اشمد نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ ایٹمی معاہدے کے مشترکہ کمیشن کے اجلاس میں تعمیری بات چیت ہوئی اور اس کے اچھے نتائج سامنے آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ تجارتی اور مالیاتی لین دین کا خصوصی نظام انسٹیکس فعال ہو گیا ہے اور اس سلسلے کا پہلا لین دین اپنا منطقی راستہ طے  کر رہا ہے۔
 انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کے دیگر ارکان بھی ایران کے لیے قائم کیے جانے والے خصوصی مالیاتی نظام انسٹیکس میں شامل ہو جائیں گے۔
 یورپی یونین کی ڈپٹی فارن پالیسی چیف نے مزید کہا کہ جامع ایٹمی معاہدے پر موثر اور مکمل علمدرآمد کرنا تمام فریقوں کے لیے کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اراک اور فرودو کے ایٹمی منصوبوں کے بارے میں بھی اجلاس میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔
 درایں اثنا روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے کہا ہے کہ ان کا ملک بھی ایران کے لیے قائم کیے گئے یورپی مالیاتی نظام انسٹیکس میں شامل ہونے کا ارادہ رکھتا ہے۔
ویانا میں ایٹمی معاہدے کے مشترکہ کمیشن کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے سرگئی ریابکوف نے کہا کہ دنیا کے دیگر ملکوں کو بھی انسٹیکس سے فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم کیے جانے کی ضرورت ہے۔
 روس کے نائـب وزیر خارجہ نے انسٹیکس کے آغاز کو اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے دیگر ملکوں کے ساتھ ایران کے تجارتی لین دین کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاہم کہا کہ اس بات کا دارو مدار انسٹیکس کے بانیوں یعنی یورپی ملکوں  کے رویئے پر ہے۔  

ٹیگس

کمنٹس