Oct ۱۵, ۲۰۱۹ ۰۷:۵۱ Asia/Tehran
  • جاپان میں سمندری طوفان سے بڑے پیمانے پر تباہی  ہلاکتوں میں اضافہ

جاپان میں آنے والے ہلاکت خیز سمندری طوفان ’ ہگی بس‘ کو گزشتہ 60 سالوں بعد خطرناک ترین طوفان کہا جارہا ہے۔

غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق سمندری طوفان ’ ہگی بس‘ جاپان کے جنوب مغرب میں واقع  جزیرہ نما علاقے ’ایزو‘ سے ٹکرانے کے بعد 225 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے مشرقی ساحل کی جانب بڑھ رہا ہے۔ جاپانی حکومت نے 60 لاکھ افراد کو فوری طور پر گھربار چھوڑ کر محفوظ مقام پر منتقل ہونے کی ہدایت جاری کی ہے۔

جاپان کی تاریخ کے خطرناک ترین طوفان سے جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو سمیت متعدد علاقوں میں سیلاب آچکا ہے جس کے باعث درجنوں درخت اکھڑچکے ہیں اور کئی علاقوں کی بجلی بھی غائب ہے، ملکی وبیرون ملکی پروازیں اور ٹرینیں منسوخ ہوگئی ہیں اس کے علاوہ جاپان میں ہونے والے انٹرنیشنل میچز بھی منسوخ کردیے گئے ہیں جب کہ حکومت نے طوفان میں پھنسے افراد کو نکالنے کیلیے ایمرجنسی ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں۔

جاپان میں آنے والے ہلاکت خیز سمندری طوفان ’ ہگی بس‘ کو گزشتہ 60 سالوں بعد خطرناک ترین طوفان کہا جارہا ہے جس میں لینڈسلائیڈنگ اور دیگر واقعات میں اب تک 60 افراد ہلاک ہوئے جب کہ 140 سے زائد زخمی اور درجنوں افراد لاپتہ ہیں۔

واضح رہے جاپان میں 1958 میں آنے والے طوفان کو خطرناک ترین طوفان کہا جاتا ہے جس میں 12 سو زائد سے افراد ہلاک، زخمی اور لاپتہ ہوئے تھے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سید عباس موسوی نے جاپان میں آنے والے طوفان اور سیلاب سے بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی اور ہلاکتوں پر متاثر ہونے والوں کے اہل خانہ، حکومت اور عوام سے ہمدردی کا اظہار کیا۔

ٹیگس

کمنٹس