Dec ۰۶, ۲۰۱۹ ۱۴:۴۴ Asia/Tehran
  • امریکہ نے ایک بار پھر ایران میں بلوائیوں کی حمایت کا اعلان کیا

امریکی صدر اور امریکی وزارت خارجہ میں ایران ایکشن گروپ کے سربراہ نے ایران میں حالیہ مظاہروں کے دوران بلوہ و فساد برپا کرنے والوں کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے خلاف بے بنیاد الزامات کو دہراتے ہوئے بلوائیوں کو حریت پسند قرار دیا ہے۔

ٹرمپ نے اپنے مضحکہ خیز بیانات کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ امریکہ، ایران کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ میں ایران ایکشن گروپ کے سربراہ نے بھی ایک بار پھر ایران میں بلوائیوں اور سیکورٹی اہلکاروں کے خلاف اسلحہ استعمال کرنے والوں کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

امریکی وزارت خارجہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے برایان ہاک نے ایران کے بعض علاقوں میں حالیہ بلوؤں کی حمایت کرتے ہوئے دعوی کیا کہ ایران کی سیکورٹی فورسس نے گذشتہ نومبر میں ہونے والے مظاہروں کی سرکوبی کے دوران سیکڑوں مظاہرین کو قتل اور زخمی کیا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ میں ایران ایکشن گروپ کے سربراہ نے کہا کہ امریکہ، ایران کے نظام کے مخالفین کے ساتھ کھڑا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ایران پر امریکہ کے حد سے زیادہ دباؤ کی وجہ سے تہران کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے اور وہ ایرانی سماج کی ضروریات کو پورا نہیں کر سکتا۔

حالیہ دنوں میں بہت سے امریکی حکام منجملہ امریکی صدر ٹرمپ اور اس ملک کے وزیر خارجہ مائک پمپئو جنھوں نے ملت ایران کے خلاف سخت ترین پابندیوں کی بارہا حمایت کی ہے، اب ایرانی عوام کی حمایت کا راگ الاپ رہے ہیں۔ امریکی حکام ایسے عالم میں ایرانی عوام کی حمایت کا راگ الاپ رہے ہیں کہ واشنگٹن کی یکطرفہ اور ظالمانہ پابندیوں میں عوام کی بنیادی ضرورت کی چیزوں حتی دواؤں تک کو شامل کر دیا گیا ہے اور اس کی بنا پر ایران کے عوام کے لئے بے پناہ مسائل پیدا ہوگئے ہیں۔

ایران کے وزیرخارجہ نے امریکہ سمیت مغربی ممالک کی جانب سے ایرانی عوام کی حمایت کے دعؤوں کو شرمناک جھوٹ قرار دیا ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا کہ ایسی حکومت جو اقتصادی پابندیا‏ں عائد کر کے ایرانی عوام تک غذا اور دوا تک نہیں پہنچنے دے رہی ہے کبھی بھی ایرانی عوام کی حمایت کا شرمناک دعوی نہیں کرسکتی۔ 

جواد ظریف نے کہا کہ قانونی مظاہرے کرنا ایرانی عوام کا حق ہے اور ایران کے آئین میں اس کی اجازت بھی دی گئی ہے اور اس کے لئے ایسی حکومتوں کی حمایت و یاد دہانی کی بھی ضرورت نہیں ہے جن کا مقصد ایران پر اقتصادی پابندیاں حتی غذاؤں اور دواؤں کی پابندیاں عائد کر کے تہران کو اپنے ناجائز مطالبات پر عمل کرنے پر مجبور کرنا ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی مجریہ ، مقننہ اور عدلیہ کے متفقہ فیصلے کی بنیاد پر پندرہ نومبر کی صبح سے  پیٹرول کی سبسیڈ کی ادائیگی  کے سسٹم میں تبدیلی اور اس کی قیمتوں میں اصلاح کے بعد ایران کے بعض شہروں میں مظاہروں اور دھرنوں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا اور اس دوران عوامی مظاہروں سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے بعض شرپسندوں نے سیاسی اہداف کے تحت  پرتشدد اور غیرقانونی اقدامات کے ذریعے عوام ، سیکورٹی اہلکاروں اور پولیس کی جان و مال کو نقصان پہنچایا اور عوام کے جائز مطالبات کو راستے سے ہٹا دیا۔

ٹیگس

کمنٹس