Apr ۱۴, ۲۰۲۰ ۰۶:۳۳ Asia/Tehran
  • چین اور امریکا کے درمیان جاری جنگ، جو جیتا وہی سکندر+ مقالہ (دوسرا حصہ)

اتفاق سے یہ دونوں واقعات اس وقت منظر عام پر آئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی ادارہ صحت کو دی جانے والی مالی مدد روکنے کا اعلان کیا ہے اور یورپ پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے کورونا کے بارے میں اطلاعات کو پوری شفافیت سے باہر نہ آنے دینے میں چین کے ساتھ تعاون کیا۔  

عرب دنیا میں تو بڑی مضبوط امریکی لابی ہے جو چین کی تعریف میں ایک لفظ بھی برداشت نہیں کرتی اور ایسا کرنے والے شخص پر ٹوٹ پڑتی ہے جبکہ آج کی حقیقت یہ ہے کہ چین بہت تیز رفتار سے ترقی کی چوٹیاں سر کر رہا ہے اور کورونا سے جنگ میں ویسے کردار ادا کر رہا ہے جیسے ایک سپر پاور کا ہوتا ہے۔

ہمیں تو یہی بتایا گیا کہ طاقت میزائلوں، سیٹیلائٹوں اور جنگی بیڑوں سے نہيں بلکہ ایجادات سے حاصل ہوتی ہے اور آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ اقوام متحدہ کے اہم ادارے کہہ رہے ہیں کہ چین نے امریکا کو پیچھے چھوڑتے ہوئے اس میدان میں پہلا مقام حاصل کر لیا ہے۔ ویسے اب اگر ٹرمپ، چین پر پابندی عائد کر دیں تو ہمیں تعجب نہیں ہوگا۔

یہ بھی پڑھئے:چین اور امریکا کے درمیان جاری جنگ، جو جیتا وہی سکندر+ مقالہ (پہلا حصہ)

چین نے کورونا کی وبا کو بڑی کامیابی سے کنٹرول کر لیا ہے اور اب وہ بغیر کسی تعصب اور امتیاز کے دنیا کے 98 سے زائد ممالک کی مدد کر رہا ہے۔ کل ہم دیکھیں گے کہ چین جدید ہتیھاروں کی طویل قطار کے ساتھ ہمارے سامنے ہے جن کے آگے امریکی طیارہ بردار جنگی بیڑوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور انہیں ریٹائر کیا جا رہا ہے۔

اس کے ساتھ یہ بھی ممکن ہے کہ ہم یہ بھی دیکھیں کہ ڈالر کے بجائے بڑے بڑے سودے یووان میں کئے جا رہے ہیں۔

چین ایجادات کرتا ہوا خاموشی سے آگے بڑھ رہا ہے جبکہ ٹرمپ چیخنے چلانے، گلا پھاڑنے، اپنی زبان کے خنجر سے دائیں بائیں حملہ کرنے اور اپنے مخالفین کو برا بھلا  کہنے میں جٹے ہوئے ہیں۔

(بشکریہ، رای الیوم، عبد الباری عطوان، عالم عرب کے مشہور تجزیہ نگار)

* سحر عالمی نیٹ ورک کا مقالہ نگار کے موقف سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے*

ٹیگس

کمنٹس