صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کا اغوا اقوام متحدہ کے منشور اور سبھی بین الاقوامی قوانین کی پامالی: سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں ایرانی مندوب کا خطاب
اقوام متحدہ میں ایرانی مندوب نے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں وینزویلا کے خلاف امریکی جارحیت اور صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کے اغوا کی سخت مذمت کی اور اس کو اقوام متحدہ کے منشور اور سبھی بین الاقوامی قوانین کی پامالی قرار دیاہے۔
سحرنیوز/ایران: ارناکی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے مندوب امیر سعید ایروانی نے وینزویلا کے بارے میں منعقدہ سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ وینزویلا کے منتخب صدر اور خاتون اول کا اغوا انتہائی قابل مذمت اور ریاستی دہشت گردی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے رکن ایک ملک کے خلاف امریکہ کی کھلی فوجی جارحیت نے علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی نیز پورے بین الاقوامی نظام کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
ایرانی مندوب نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اقوام متحدہ بالخصوص سلامتی کونسل سے اس سلسلے میں بلا تاخیر ضروری اقدام کا مطالبہ کرتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران وینزویلا کی منتخب قانونی حکومت اور عوام کی مکمل حمایت کا اعلان کرتا ہے اور ان کے ساتھ کھڑا ہے۔ ایرانی مندوب نے اپنے خطاب میں ایران کے خلاف ٹرمپ کی حالیہ دھمکیوں کو بھی اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا اور اس کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔
اجلاس سے خطاب میں روسی مندوب نے بھی وینزویلا کے خلاف امریکی جارحیت کی مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ صدر نکولس مادورو کو جنہیں اغوا کرکے امریکہ منتقل کیا گیا ہے، فوری طور پر رہا کیا جائے۔ انھوں نے سلامتی کونسل کے اراکین سے مطالبہ کیا کہ دوہرے معیار ترک کریں اور امریکی غنڈہ گردی کے خوف سے اس کھلی جارحیت کی توجیہ نہ کریں۔ انھوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو متحد ہوکر ٹھوس اور مستحکم انداز میں امریکی پالیسیوں کو مسترد کرنا چاہئے۔
چین کے نائب مندوب نے بھی وینزویلا میں امریکی اقدامات کو کھلی غنڈہ گردی قرار دیا اور ان کی مذمت کی۔ انھوں نے خبردار کیا کہ امریکہ کی اس کھلی جارحیت کے اثرات صرف لاطینی امریکہ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا میں اس کے منفی نتائج مرتب ہوں گے۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel
انھوں نے امریکہ کے جارحانہ اقدامات کے سلسلے میں جون دو ہزار پچیس میں ایران پر صیہونی حکومت کی جارحیت کے دوران ایران کی پُر امن ایٹمی تنصیبات پر امریکی حملے کا بھی حوالہ دیا اور دنیا کے لئے اس طرح کے جارحانہ اقدامات کے نتائج کی بابت خبردار کیا۔