Oct ۱۴, ۲۰۱۵ ۱۷:۳۲ Asia/Tehran
  • انسانی حقوق ، سعودی عرب کے ساتھ مفادپرستانہ تعلقات کی بھینٹ
    انسانی حقوق ، سعودی عرب کے ساتھ مفادپرستانہ تعلقات کی بھینٹ

فرانس کے وزیر اعظم نے سعودی عرب کے ساتھ دس ارب یورو کی مالیت کے کئی سمجھوتوں پر دستخط کی خبر دی ہے-

فرانس کے وزیراعظم مانوئل والس نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا کہ یہ سمجھوتے، انرجی ، حفظان صحت، زراعت، خوراک، اسلحہ جات ، مواصلات اور بنیادی تنصیبات کے شعبوں میں انجام پائے ہیں- سعودی عرب کے بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز نے منگل کو ریاض میں فرانسیسی وزیراعظم کی میزبانی کی اور فریقین نے دوطرفہ تعلقات کی راہوں کو فروغ دینے اور انھیں مضبوط بنانے کے بارے میں گفتگو کی- فرانس خود کو سعودی عرب کا اصلی اتحادی بنانے کے لئے بھرپور کوشش کر رہا ہے-


ریاض اور پیرس کے درمیان اقتصادی تعاون کی سطح نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے سعودی عرب کو خلیج فارس کے ممالک کے درمیان فرانس کے پہلے تجارتی اتحادی میں تبدیل کر دیا ہے- سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو پروان چڑھانے کے لئے اس ملک میں انسانی حقوق کی پامالی کو نظرانداز کئے جانے کے باعث فرانس پر تنقیدیں ہوتی رہی ہیں- اور اسی بنا پر فرانس کے وزیر اعظم مانوئل والس کے دورہ ریاض اور سعودی عرب کے ساتھ کئی سمجھوتوں پر دستخط کو فرانسیسی ذرائع ابلاغ نے ہدف تنقید بنایا ہے-


فرانسیسی جریدے لومونڈ نے فرانس کے وزیر اعظم کے دورہ ریاض پر تنقید کرتے ہوئے لکھا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے انسانی حقوق کے قوانین کی خلاف ورزی تشویشناک ہے اور سزائے موت اس ملک کے اپوزیشن رہنماؤں کے انتظار میں ہے- سعودی حکمراں، جمہوریت کو پسند نہیں کرتے اور سعودی شہریوں اور سیاسی شخصیتوں کے قانونی اور سیاسی مطالبات انھیں برداشت نہیں ہیں اور مظاہرین کا جواب زد وکوب، جیل اور تختہ دار ہے-


مشرقی سعودی عرب کے العوامیہ علاقے میں مظاہرین کی سرکوبی، اکیسویں صدی میں ڈیموکریسی کے اصولوں سے آل سعود کی کھلی مخالفت کاثبوت ہے- آل سعود، سعودی عرب میں بڑے پیمانے پرانسانی حقوق کی خلاف ورزی کے ساتھ ہی اپنے حدود سے باہر بھی دوسرے ملکوں کے شہریوں کے حقوق پامال کرتی ہے- یمن پر سعودی عرب کا حملہ اور بے گناہ یمنی شہریوں کا قتل عام ، انسانیت پر ڈھایا جانے والا ایسا ظلم ہے جسے دنیا والے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں-


مغرب بالخصوص فرانس نے، سعودی عرب کے ساتھ مفاد پرستانہ اقتصادی تعاون کے سایے میں اس ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کو نظرانداز کر دیا ہے اور سعودی عرب کے پیٹروڈالراس بات کا باعث بنے ہیں کہ مغرب کے لئے اقتصادی مفادات، انسانی حقوق کے مفادات سے زیادہ اہمیت کے حامل ہیں-


فرانس سمیت مختلف مغربی ممالک، سعودی عرب کو فوجی ساز و سامان سمیت اپنی مصنوعات کے لئے ایک منڈی سمجھتے ہیں اور اس عرب ملک کو سالانہ اربوں ڈالر مالیت کے اسلحوں کی فروخت دو طرفہ لین دین کی بنیاد ہے-


سعودی حکام کا خیال ہے کہ وہ تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والے ڈالروں کی بدولت اپنے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا مسئلہ اٹھائے جانے کی اجازت نہیں دیں گے اور فرانس نے اسی نظریے کے پیش نظر، سعودی عرب کی انسانی حقوق کی سیاہ فائل پرایک سرسری نگاہ ڈالے بغیر ہی ریاض کے ساتھ دس ارب ڈالرمالیت کے کئی سمجھوتوں پر دستخط کئے ہیں-


سعودی عرب کے سلسلے میں مغرب کے رویے سے پتہ چلتا ہے کہ انسانی حقوق کی پیمائش، دوسرے ممالک کے سلسلے میں انسانی حقوق کے نام نہاد دعوے دار ممالک کی پالیسی اور موقف اختیار کرنے کا حربہ بن چکی ہے-



ٹیگس