Jan ۱۲, ۲۰۱۷ ۱۶:۰۷ Asia/Tehran
  • سعودی عرب میں انسانی حقوق کی پامالی میں اضافہ

ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے نئے عیسوی سال میں سعودی عرب میں حکومت کے مخالفین اور عوام کے حقوق کے لئے سرگرم افراد کی گرفتاری اور آل سعود کی تشدد آمیز پالیسیوں میں شدت آنے پر ریاض حکومت پر تنقید کی ہے۔

تیسری تفسیر

ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے نئے عیسوی سال میں سعودی عرب میں حکومت کے مخالفین اور عوام کے حقوق کے لئے سرگرم افراد کی گرفتاری اور آل سعود کی تشدد آمیز پالیسیوں میں شدت آنے پر ریاض حکومت پر تنقید کی ہے۔

ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک پریس ریلیز میں اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب کی پولیس نے عصام کوشک کو مکہ مکرمہ میں اور احمد المشیخص کو دمام میں گرفتار کرلیا ہے۔ان افراد کو باز پرس کے لئے تھانے بلایا گیا تھا جہاں انہیں گرفتار کرلیا گیا، گذشتہ ہفتےسے یہ لوگ سعودی سکیورٹی فورسس کے ہاتھوں قید ہیں۔ عصام کوشک سے ٹوئٹر پرانسانی حقوق کے بارے میں دئے جانے والے پیغامات کے بارے میں تفتیش ہورہی ہے جبکہ المشیخص پر یہ الزام لگایا  گیا ہے  کہ انہوں نے مشرقی علاقوں میں گرفتار ہونے والوں کی حمایت کی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق آل سعود کی کال کوٹھریوں میں تیس ہزار افراد قید و بند کی صعوبتیں اٹھارہے ہیں۔آل سعود کی کال کوٹھریاں دنیا کی بدترین جیلوں میں شمار ہوتی ہیں۔

مغربی قانونی اداروں نے ہمیشہ سے آل سعود کے اقدامات پر خاموشی اختیار کر رکھی تھی اب اس ظالم و جابر حکومت کے اقدامات پر رد عمل دکھانے پرمجبور ہوئے ہیں۔ آل سعود کی حکومت جو عوام کو کچلنے اور تشدد آمیز پالیسیوں پرعمل کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتی اور کسی حدوحدود کی بھی قائل نہیں ہے اس نے عملا سعودی عرب کر انسانی حقوق کی پامالی کا مرکز بنارکھا ہے اور عالمی سطح پر اس بات کے چرچے ہیں۔ قانونی ادارے سعودی عرب کے حکام کے انسانیت سوز اقدامات کے خلاف عالمی اداروں کے سنجیدہ اقدامات کے خواہاں ہیں۔ مغربی ملکوں کی حمایت سے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں سعودی عرب کی دوبارہ رکنیت سے عالمی برادری کو نہایت حیرت ہے۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے رائے عامہ کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے اس کونسل کےقوانین کی آٹھویں شق کے مطابق سعودی عرب کی رکنیت معطل کرنے سے انکار کردیا ہے۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی آٹھویس شق کے مطابق اگر اس کا کوئی رکن جرائم کا مرتکب ہوتا ہے تو اس کی رکنیت کو معطل کردیا جاتا ہے۔ لیکن یہ قانون بھی آل سعود کی حکومت کے حق میں مغربی ملکوں کی حمایت کی وجہ سے نظر انداز کردیا گیا اس طرح آل سعود کی رکنیت نہ صرف معطل نہیں کی گئی بلکہ اس کو دوبارہ انسانی حقوق کونسل کا رکن بنالیا گیا یہ ایسے عالم میں ہے کہ آل سعود کی حکومت انسانی حقوق کی پامالی کا نہایت ہی سیاہ ریکارڈ رکھتی ہے۔ اپنے ملک میں سیاسی فضا کو زیادہ سے زیادہ محدود کرنا اور گھٹن کا ماحول پیدا کرنا عوام کے سماجی اور شہری حقوق کو زیادہ سے زیادہ پامال کرنا یہ ایسے امور ہیں جن  سے اھل عالم کے سامنے اس حکومت کی ماہیت کھل کر سامنے آجاتی ہے۔آل سعود کے ہاں حکومت موروثی ہے اور عوام حکومت کی تشکیل میں کسی طرح کا کوئی کردار نہیں رکھتے ہیں، انہیں قانونی سازی میں بھی شرکت کرنے کا حق نہیں ہے یہ ایسے عالم میں ہے کہ سعودی عرب میں جہموریت کی علامتوں جیسے انتخابات، سیاسی پارٹیوں، میڈیا کی آزادی نام کی کوئی چیز نہیں ہے ۔آل سعود کی حکومت کی انسانیت سوز پالیسیاں اور عالمی اداروں کی طرف سے اس کی حمایت اس بات کا موجب بنی ہےکہ سعودی عرب میں وسیع پیمانے پر انسانی حقوق پامال  کئے جائیں ۔

 

ٹیگس