Jan ۲۶, ۲۰۱۷ ۱۵:۲۴ Asia/Tehran
  • اقوام متحدہ کی جانب سے اسرائیلی اور عرب حکام کے مظالم پر پردہ ڈالنے کا سلسلہ جاری

اسرائیل، سعودی عرب اور بحرین نے اقوام متحدہ پر دباؤ ڈال کر مغربی ایشیا میں اس بین الاقوامی ادارے کی اقتصادی و سماجی کمیٹی اسکوا (ESCWA) کی رپورٹ منظر عام پر لائےجانےکی روک تھام کر دی ہے۔

لبنان کے المیادین ٹی وی چینل نے ، کہ جسے اسکوا کی رپورٹ کی ایک کاپی ہاتھ لگی ہے، بدھ کے دن کہا کہ اسکوا نے "عرب دنیا میں ظلم و عدل" کے عنوان سے اپنی رپورٹ میں مشرق وسطی میں بعض اقوام پر روا رکھے جانے والے مظالم کو بےنقاب کیا ہے اور اس سلسلے میں فلسطین کا خاص طور پر ذکر کیا ہے۔

اسکوا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے سنہ انیس سو پچاس کے عشرے کے اواخر یعنی اپنی حکومت کے قیام کے اعلان کے ابتدائی برسوں میں فلسطینیوں کے پانچ سو اکتیس دیہات تباہ کردیئے۔ اس رپورٹ میں مزید آیا ہےکہ متحدہ عرب امارات اور بحرین جیسے ممالک اپنے شہریوں کی شہریت سلب کر رہے ہیں جبکہ یہ اقدام انسان حقوق کے منشور کے منافی ہے۔ صیہونی حکومت اور عرب حکام کے سامنے اقوام متحدہ کے گھٹنے ٹیکنے کا سلسلہ ختم ہونے میں نہیں آ رہا ہے۔ اسی وجہ سے یہ حکومتیں خطے میں اپنے مظالم جاری رکھنے میں زیادہ گستاخ ہوگئی ہیں۔ دنیا والوں کو ابھی تک یاد ہےکہ اقوام متحدہ نے کس طرح بچوں پر صیہونی حکومت اور سعودی عرب کی جانب روا رکھے جانے والے مظالم کو نظر انداز کیا تھا۔ عالمی برادری ابھی تک عالمی سطح پر بچوں پر کئے جانے والے تشدد کی وجہ سے غم و اندوہ میں مبتلا ہے لیکن صیہونی حکومت اور سعودی عرب انسانی حقوق کے دعویداروں کی خاموشی بلکہ ان کی حمایت اور اقوام متحدہ کی جانب سے سنجیدہ اقدام نہ کئے جانے کی وجہ سے اپنا تشدد جاری رکھے ہوئے ہیں اور انہوں نے بدترین تشدد کا ارتکاب کیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ بچوں پر مظالم کرنے کے سلسلے میں صیہونی حکومت بدستور پہلے نمبر پر ہے۔  انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے شائع کی جانے والی رپورٹوں کے مطابق یہ حکومت بچوں کی قاتل حکومت کے طور پر مشہور ہے۔ البتہ سعودی عرب جیسی حکومتیں بھی بچوں پر ظلم ڈھانے کے سلسلے میں صیہونی حکومت سے پیچھے نہیں ہیں۔ بچوں پر ظلم ڈھانے کے سلسلے میں صیہونی حکومت کے بعد سعودی عرب کا ہی نمبر ہے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب اقوام متحدہ کےسابق سیکرٹری جنرل بان کی مون نے صیہونی حکومت کا نام ، کہ جس نے فلسطینی بچوں خصوصا غزہ میں فلسطینی بچوں کا قتل عام کیا، بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں کی فہرست میں شامل نہیں کیا۔

امریکہ اور سعودی عرب کی جانب سے  اثر و رسوخ استعمال کئے جانے کے بعد اقوام متحدہ نے بان کی مون کے زمانے میں یمنی بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں کی فہرست میں سعودی عرب کا نام شامل کرنے کے اپنے سابقہ موقف سے پسپائی اختیار کرلی۔ اسی تناظر میں اقوام متحدہ نے کچھ عرصہ قبل آل سعود کی جانب سے امداد بند کئے جانے کی دھمکی ملنے کے بعد یمن میں بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں کی فہرست سے سعودی عرب کا نام نکال دیا۔ جبکہ اقوام متحدہ کے ذیلی بعض اداروں سمیت مختلف بین الاقوامی اداروں اور تنظیموں نے سعودی عرب کو سنہ دو ہزار پندرہ سے یمن میں مارے جانے ساٹھ فیصد بچوں کی اموات کا ذمےدار قرار دیا ہے۔

اقوام متحدہ کی جانب سے صیہونی حکومت اور عرب حکام کے مظالم کے خلاف  کوئی ٹھوس اقدام نہ کئے جانے ، صرف اعداد و شمار جاری کئے جانے حتی اس کی بھی روک تھام کر دیئے جانے اور ان مظالم کی صرف زبانی مذمت کئے جانے کی وجہ سے صیہونی حکومت اور عرب حکام خطے میں اپنے مظالم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

 

ٹیگس