Feb ۲۴, ۲۰۲۴ ۱۴:۲۹ Asia/Tehran
  • ہندوستان: کم عمری کی شادی پر پابندی لگانے کے لیے مسلم نکاح اور طلاق رجسٹریشن ایکٹ 1935 ختم

آسام حکومت نے ریاست میں کم عمری کی شادی پر پابندی لگانے کے لیے مسلم نکاح اور طلاق رجسٹریشن ایکٹ انیس سو پینتیس کو ختم کر دیا ہے۔

سحر نیوز/ ہندوستان: ہندوستان کی ریاست آسام کے وزیراعلیٰ ہمانتا بسوا سرما نے سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ایک پوسٹ میں لکھا کہ آسام کابینہ نے ایک اہم فیصلہ لیا اور برسوں پرانے آسام مسلم شادی اور طلاق رجسٹریشن ایکٹ کو واپس لے لیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ آسام میں یونیفارم سول کوڈ کو نافذ کرنے کی جانب اہم قدم ہے، سابقہ قانون میں یہ شقیں تھیں کہ اگر دولہا اور دلہن کی شادی کے لیے قانونی عمر نہ ہو یعنی لڑکیوں کے لیے اٹھارہ سال اور لڑکوں کے لیے اکیس سال، تب بھی نکاح رجسٹر کیا جا سکتا تھا۔ یہ آسام میں نابالغ شہریوں کی شادی کو روکنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

آسام حکومت نے کہا ہے کہ مسلم شادی اور طلاق رجسٹریشن ایکٹ کے خاتمے کے بعد مسلمانوں کی شادی کی رجسٹریشن بھی ضلع کمشنر اور ضلع رجسٹرار خصوصی میرج ایکٹ کے تحت کرائیں گے جو اس سے پہلے چورانوے مسلم نکاح رجسٹراروں کے ذریعہ کیاجاتاتھا۔

حکومت نے اعلان کیا ہے کہ مسلم شادیوں کو رجسٹر کرنے والے رجسٹراروں کو ہٹا دیا جائے گا اور انہیں دو لاکھ روپے کا یکمشت معاوضہ دیا جائے گا۔ آسام حکومت نے ان قوانین کو ہٹانے کے پیچھے دلیل دی ہے کہ یہ قوانین برطانوی راج کے دور کے ہیں۔

ٹیگس