ہندوستان: مظفر نگر فرقہ وارانہ فسادات کے تمام ملزموں کو بَری کیے جانے پر مختلف تنظیموں اور شخصیات کا اظہارِ تشویش
ہندوستان کے مظفرنگر علاقے میں 2013 میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کے تمام ملزموں کو بَری کیے جانے پر مختلف سماجی تنظیموں اور شخصیات نے اظہارِ تشویش کیا ہے۔
سحرنیوز/ہندوستان: ہندوستانی میڈیا رپورٹ کی رپورٹ کے مطابق مختلف سماجی تنظیموں اور شخصیات نے 2013 میں ہونے والے بھیانک فرقہ وارانہ فسادات کے تمام 32 ملزموں کو عدالت کی طرف سے بَری کیے جانے پر اظہارِ تشویش کرتے ہوئے اس فیصلے کو جانبدارانہ قراردیا ہے اور تفتیشی نظام کی کارکردگی کا جائزہ لینے پر زور دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ریاست اترپردیش کے ضلع مظفرنگر میں 2013 میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات سے متعلق گاؤں کُٹبا میں ہوئے قتل و آتش زنی کے واقعات سے متعلق مقدمے میں مقامی عدالت نے 32 ملزمین کو ثبوتوں کے فقدان کی بنیاد پر بَری کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج منجولا بھالوٹیہ نے سنایا۔
عدالت کی جانب سے ملزموں کو بَری کیے جانے کے بعد مختلف ملی، دینی اور سماجی شخصیات نے اس فیصلے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس مقدمے کے انجام نے متاثرہ خاندانوں کے ذہنوں میں انصاف کی فراہمی سے متعلق کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔
2013 میں مظفر نگر اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں بھیانک فرقہ وارانہ فسادات بھڑک اٹھے تھے۔ کٹبا گاؤں کے رہنے والے ایک شخص عمران نے شاہ پور تھانے میں دو الگ الگ مقدمات درج کروائے تھے۔ شکایت میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ 111 سے زیادہ افراد نے، جو رائفلوں، بندوقوں، طمنچوں، تلواروں، بھالوں اور دیگر تیز دھار ہتھیاروں سے لیس تھے، مسلمانوں کے گھروں پر حملہ کیا۔
تفتیش کے بعد پولیس نے مجموعی طور پر 36 فراد کے خلاف چارج شیٹ داخل کی۔ مقدمے کی سماعت کے دوران چار ملزموں کا انتقال ہو گیا اور باقی 32 ملزمین کے خلاف مقدمہ چلایا گیا۔ یہ مقدمہ تقریباً 13 سال تک زیرِ سماعت رہا۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel
واضح رہے کہ 2013 کے مظفر نگر فسادات میں کُل 60 سے زیادہ افراد ہلاک جبکہ 40 ہزار سے زیادہ بے گھر ہوگئے تھے۔