Apr ۰۲, ۲۰۲۵ ۰۶:۴۶ Asia/Tehran
  • یوپی حکومت کے خلاف ہندوستانی سپریم کورٹ کا فیصلہ

ہندوستان میں سپریم کورٹ نے یوپی حکومت کی بلڈوزر کارروائی کو غیرقانونی اور غیر آئینی قرار دیتے ہوئے، اس حوالے سے یوگی حکومت کی سخت سرزنش کی ہے۔

سحرنیوز/ہندوستان: ںئی دہلی سے موصولہ رپورٹ کے مطابق ریاست اتر پردیش کی بی جے پی حکومت کو آج اس وقت سخت جھٹکا لگا جب سپریم کورٹ نے اس کی انہدامی کارروائیوں کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیتے ہوئے حکم صادر کیا کہ جن لوگوں کے مکانات پر غیرقانونی طور پر بلڈوزر چلایا گیا ہے، انہیں فی کس دس لاکھ روپے ہرجانہ ادا کیا جائے۔
اس رپورٹ کے مطابق ہندوستانی سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے اپنے فیصلے میں ریمارکس دیئے ہیں کہ یوپی حکومت کی بلڈوزر کارروائی نے ہمارے شعور کو جھنجھوڑ کر رکھدیا ہے۔ جسٹس اے ایس اوکا اور جسٹس اجل بھویان پر مشتمل سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ یوپی حکومت نے قانون کو بالائے طاق رکھ کر، لوگوں کے مکانات مسمار کئے ہیں۔
یاد رہے کہ یوپی حکومت کی بلڈوزر کارروائی کے خلاف ذوالفقار حیدر ایڈوکیٹ، پروفیسر علی احمد اور متعدد متاثرین نے اس حوالے سے سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کی تھی۔ ہندوستانی سپریم کورٹ میں اپنے فیصلے میں متاثرین کو فی کس دس لاکھ روپے بطور ہرجانہ ادا کرنے کے حکم کے ساتھ ہی کہا ہے کہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو قانون کی پاسداری کرنی چاہئے۔

ٹیگس