دہلی میں خواتین صحافیوں سے مبینہ بدسلوکی کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا
ہندوستانی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریہ کانت نے دہلی پولیس کے سینئر افسر کو ذاتی طور پر پیش ہو کر وضاحت دینے کی ہدایت دیتے ہوئے صحافیوں کے تحفظ کا مطالبہ کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔
سحرنیوز/ہندوستان: ہندوستان کے دارالحکومت نئی دہلی میں حالیہ احتجاجی مظاہروں کی کوریج کے دوران خواتین صحافیوں کے ساتھ مبینہ مارپیٹ اور بدسلوکی کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے۔ عدالت نے اس معاملے پر سخت نوٹس لیتے ہوئے دہلی پولیس کے ایک سینئر افسر کو ذاتی طور پر پیش ہو کر الزامات پر وضاحت دینے کی ہدایت دی ہے۔
منگل کے روز چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں سماعت کے دوران سینئر وکیل اندرا جے سنگھ نے ’نیٹ ورک آف ویمن ان میڈیا، انڈیا‘ (این ڈبلیو ایم آئی) کی عرضی کا ذکر کیا۔ عرضی میں احتجاجی مقامات پر رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں، بالخصوص خواتین صحافیوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت چاہتی ہے کہ کوئی سینئر پولیس افسر پیش ہو کر معاملے کی وضاحت کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پولیس کو اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کا جواب دینا ہوگا۔ عدالت نے معاملے کی اگلی سماعت جمعرات کو مقرر کی ہے۔
عرضی میں مرکزی حکومت سے ایسے اقدامات اور ہدایات جاری کرنے کی درخواست کی گئی ہے، جن کے تحت پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انجام دینے والے صحافیوں کو احتجاجی مظاہروں، عوامی اجتماعات، بھیڑ کو قابو میں کرنے کی کارروائیوں یا اہم عوامی تقریبات کے دوران محض اپنی موجودگی کی بنیاد پر ہراسانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
درخواست میں خواتین صحافیوں کو جسمانی تشدد، دھمکیوں، من مانی حراست اور زبردستی احتجاجی مقامات سے ہٹائے جانے جیسی کارروائیوں سے تحفظ فراہم کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
سماعت کے دوران سینئر وکیل گوپال شنکرنارائنن نے ’فریڈم اسپیچ کلیکٹو‘ کی جانب سے دائر توہینِ عدالت کی عرضی کا بھی حوالہ دیا۔ اس عرضی میں الزام لگایا گیا ہے کہ صحافیوں کے ساتھ مبینہ مارپیٹ کرکے سپریم کورٹ کے 10 اکتوبر کے اس حکم کی خلاف ورزی کی گئی، جس میں احتجاجی مظاہروں کی کوریج کرنے والے میڈیا اہلکاروں کو پریشان نہ کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔
سینئر وکیل چندر ادے سنگھ نے بھی اسی نوعیت کی ایک دوسری عرضی کی جانب عدالت کی توجہ مبذول کرائی۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel
سحر اردو ٹی وی کے لیے اہم سوال یہ ہے کہ احتجاجی مظاہروں کی کوریج کرنے والے صحافیوں کی سلامتی اور آزادانہ رپورٹنگ کو یقینی بنانے کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں گے؟ سپریم کورٹ میں اس معاملے کی آئندہ سماعت جمعرات کو ہوگی، جہاں پولیس کا مؤقف سامنے آنے کی توقع ہے۔