Dec ۰۸, ۲۰۱۵ ۱۸:۱۱ Asia/Tehran
  • اردوغان کے بڑے بڑے بھی ایران کودھمکی نہیں دے سکتے
    اردوغان کے بڑے بڑے بھی ایران کودھمکی نہیں دے سکتے

اسلامی جمہوریہ ایران نے ترکی کے صدر کے دعوے کے جواب میں کہا ہے کہ رجب طیب اردوغان کے بڑے بڑے بھی ایران کو دھمکی نہیں دے سکتے -

اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت کے ترجمان محمد باقر نوبخت نے ترکی کے صدر اردوغان کے ذریعے ایران کو دھمکی دیئے جانے سے متعلق سامنے آنے والی خبروں پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اردوغان نے اگر ایران کو دھمکی دینے کا کوئی دعوی کیا ہے تو انہیں جان لینا چاہئے کہ ایران کے وزیرخارجہ نے ان کے بڑے سے بھی کہہ دیا ہے کہ کبھی کسی ایرانی کو دھمکی دینے کی کوشش نہ کرنا اور اردوغان کے بڑے بھی ہمیں نہیں ڈراسکتے -

واضح رہے کہ ترکی کے صدر اردوغان نے ابھی حال ہی میں یہ دعوی کیا تھا کہ انہوں نے ایران کے صدر کو خبردار کیا تھا کہ اگرایران نے ترکی کے ذریعے داعش سے تیل خریدنے کا مسئلہ اٹھایا تو اس کو بھاری قیمت چکانی پڑے گی اور ہماری اس دھمکی کے بعد ایرانیوں نے اپنی بات واپس لے لی ہے- ایران کی حکومت کے ترجمان نوبخت نے، صدر روحانی اور ترک صدراردوغان کی ٹیلی فونی گفتگوکےبارے میں کہا کہ ایران کے بارے میں اردوغان کایہ دعوی بالکل غلط ہے-

یہ ٹیلی فونی رابطہ جولائی میں ہوا تھا اور اس ٹیلی فونی گفتگو کے دوران اردوغان نے کہا تھا کہ ایرانی میڈیا نے ان کے اور ان کے گھروالوں کے بارے میں کچھ باتیں کہی ہیں جس پر اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے واضح کردیا تھا کہ ایران میں اظہاررائے کی پوری آزادی ہے اوراس ٹیلی فونی گفتگو میں کسی طرح کی دھمکی والی کوئی بات نہیں تھی -

ایرانی حکومت کے ترجمان نے اردوغان کے مشیروں کو نصحیت کی کہ وہ اپنے صدر کو صحیح اطلاعات و معلومات پہنچائیں اور ترکی کو اپنے ہمسایہ ملکوں سے نہ الجھائیں -

اس سے پہلے اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان حسین جابری انصاری نے بھی ترکی کے صدر کے حالیہ بیان پر شدید ردعمل ظاہرکرتے ہوئے ترک حکام سے کہا تھا کہ وہ دوطرفہ احترام اور نزاکت کے اصولوں کی پاسداری کریں اور سیاسی موقف اپناتے وقت ہرقسم کی مہم جوئی سے باز رہیں -

بین الاقوامی امور میں رہبرانقلاب اسلامی کے مشیر ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے بھی ترک حکام کو نصیحت کی ہے کہ وہ نزاکتوں کا خیال رکھیں انہوں نے زوردے کر کہا کہ ہر ایک کو اپنی حد میں رہ کر بولنا چاہئے - ڈاکٹرولایتی نے ہمسایہ ملکوں سے کہا کہ وہ ایسے بیانات دیں جو دوراندیشی پر مبنی ہوں اور علاقے میں امریکا نے جو آگ لگائی ہے اس پر پٹرول نہ چھڑکیں۔

یادرہےکہ روسی حکام نے پچھلے دنوں عراق اور شام سے تیل کی اسمگلنگ میں اردوغان اوران کے گھروالوں کے ملوث ہونے اور ترکی کے ذریعے داعش سے تیل خریدنے کے اقدامات پر شدید تنقید کی تھی جس پرانقرہ بری طرح سیخ پا ہوگیا ہے -روسی وزارت دفاع نے گذشتہ بدھ کو سیٹلائٹ کے ذریعے لی گئی ایسی تصویریں بھی نشرکی ہیں جن میں دکھایا گیا ہے کہ دہشت گرد گروہ داعش دولاکھ بیرل سے زیادہ تیل سترہ سوبائیس آئیل ٹینکروں میں عراق اور شام سے ترکی منتقل کررہاہے -

ایران کی تشخیص مصلحت نظام کونسل کے سکریٹری محسن رضائی نے بھی کہا ہےکہ اگر ترک حکومت کو اس بات کا علم نہیں ہے کہ داعش عراق اور شام سے تیل نکال کر ترکی میں فروخت کررہا ہے تو ہم اس کی معلومات ترک حکام کو فراہم کرنے کو تیار ہیں -

دوسری جانب عراق کے وزیراعظم حیدرالعبادی نے بھی کہا ہے کہ دہشت گرد گروہ داعش عراق کے تیل کا زیادہ حصہ ترکی کے ذریعے اسمگل کرتاہے -

ٹیگس