Jul ۳۰, ۲۰۱۹ ۱۰:۵۷ Asia/Tehran
  • ایران نے کی سعودی جارحیت کی مذمت

ایران نے یمن کے شہر صعدہ کے بازار پر سعودی عرب کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے واقعہ میں شہید اور زخمی ہونے والوں کے اہلخانہ اور اس ملک کے نہتے عوام سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سیدعباس موسوی نے آج منگل کے روز سعودی عرب کے اس قسم کے غیر انسانی اور وحشیانہ حملوں پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یمن پر جارح فورسز کی گزشتہ 4 سال سے جارحیت کا سلسلہ جاری ہے اور اس یکطرفہ جنگ میں سوائے بربادی کے اور کچھ ہاتھ نہیں آیا ہے اس لئے اب وہ سیاسی اور میدان جنگ کی شکست کا بدلہ عورتوں، معصوم بچوں اور عام شہریوں کے قتل عام سے لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نےیمن میں جارح فورسز کی انسان دشمن کارروائیوں اور جنگی جرائم پر عالمی برادری کی ڈرامائی خاموشی پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور بعض یورپی ممالک جارحین کو ہتھیار فروخت کر کے اس قسم کے جرائم میں برابر کے شریک ہیں اور انھیں اس حوالے سے جواب دینا ہوگا۔

واضح رہے کہ کل یمن کے صوبے صعدہ کے "قطابر" Qatabir  بازار میں سعودی اتحاد کے جنگی طیاروں کے حملے میں 14 افراد شہید اور 23 زخمی ہوئے، زخمیوں میں 11 بچے بھی شامل ہیں۔

سعودی عرب نے امریکا اور اسرائیل کی حمایت  سے اور اتحادی ملکوں کے ساتھ مل کر چھبیس مارچ دوہزار پندرہ سے یمن پر وحشیانہ جارحیتوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے ۔ اس دوران سعودی حملوں میں دسیوں ہزار یمنی شہری شہید اور زخمی ہوئے ہیں جبکہ دسیوں لاکھ یمنی باشندے اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں ۔

یمن کا محاصرہ جاری رہنے کی وجہ سے یمنی عوام کو شدید غذائی قلت اور طبی سہولتوں اور دواؤں کے فقدان کا سامنا ہے ۔

 سعودی عرب نے غریب اسلامی ملک یمن کی بیشتر بنیادی تنصیبات اسپتال اور حتی مسجدوں کو بھی منہدم کردیا ہے  لیکن اس کے باوجود سعودی عرب یمن پر مسلط کردہ جنگ میں اپنے اہداف تک پہنچنے میں بری طرح ناکام ہوگیا ہے۔

ٹیگس