روس اور یوکرین آپسی اختلافات کو غیروں کی مداخلت کے بغیر حل کریں: ایران
اسلامی جمہوریہ ایران نے روس-یوکرین بحران کے، بیرونی مداخلت کے بغیر سفارتی چینل سے حل ہونے پر زور دیا ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبد اللھیان نے امید ظاہر کی ہے روس-یوکرین بحران بیرونی مداخلت کے بغیر سفارتی چینل اور گفتگو سے حل ہوجائے گا۔
انہوں نے جمعرات کو اپنے یوکرینی ہم منصب دیمترو کولبا سے ٹیلیفونی گفتگو میں امید ظاہر کی جس کے دوران فریقین نے آپسی دلچسپی کے موضوع اور بین الاقوامی سطح پر اہم واقعات پر تبادلہ خیال کیا۔
روس-یوکرین بحران پر تفصیلی گفتگو میں ایران کے اعلی سفارتکار نے دونوں ملکوں کی سرحدوں پر کشیدگی میں کمی آنے پر اطمینان کا اظہار کیا۔
حسین امیر عبداللھیان نے امید ظاہر کی یوکرین کی تازہ صورت حال کسی تیسرے فریق کی مداخلت کے بغیر گفتگو و سفارتی چینل سے بدل جائے گي۔ انہوں نے کہا کہ ہم خطے میں امن و پایداری کے تحفظ کا مطالبہ کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ اس بحران کے پر امن طریقے سے حل کے لئے ہر ضروری اقدام کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر رئیسی کی حکومت یوکرین کے ساتھ مختلف میدانوں میں تعلقات کو توسیع دینے کے لئے پر عزم ہے۔
اس موقع پر یوکرین کے وزیر خارجہ کولبا نے بھی اپنے ملک کے بحران کے تعلق سے ایران کے اصولی موقف کو سراہا اور کہا کہ ہم جنگ نہیں چاہتے بلکہ ہم سفارتی اور پرامن طریقے سے مسئلے کے حل کے خواہاں ہیں۔