Aug ۱۹, ۲۰۲۲ ۱۷:۵۰ Asia/Tehran
  • امریکہ کے مقابلے میں استقامت کا راستہ اختیار نہ کیا گیا تو وہ اور زیادہ منھ زور ہو گا

ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا ہے کہ اگر مقابل فریق نے اقوام متحدہ کے توثیق شدہ ایٹمی معاہدے پر عمل نہیں کیا تو انہیں کسی بھی طرح کی من مانی کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے شہدا کی یاد میں منعقدہ ایک پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایٹمی معاہدے پر دستخط ہوجانے کے باوجود امریکہ کی سابق ٹرمپ حکومت نے اس معاہدے پر عمل نہیں کیا اور اقوام متحدہ کے توثیق شدہ اس بین الاقوامی معاہدے کی خلاف ورزی کی اور اقوام متحدہ کی قرارداد کو پیروں تلے روندتے ہوئے ایران کے خلاف پابندیاں بحال کیں اور ان پابندیوں کو زیادہ سے زیادہ سخت کیا۔

محمد باقر قالیباف نے کہا کہ امریکہ عالمی سطح پر غنڈہ گردی کا مظاہرہ کرتا ہے اور اگر اس ملک کے مقابلے میں استقامت و مزاحمت کا راستہ اختیار نہ کیا جائے تو وہ اور زیادہ منھ زور ہوتا چلا جائے گا اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ اپنی طاقت و توانائی میں اضافہ کیا جائے۔

ایران کے پارلیمانی اسپیکر نے کہا کہ اقتصادی جنگ میں پارلیمنٹ کا اہم ترین بل پابندیوں کے خاتمے کے بارے میں تھا اور ایران ظالمانہ جنگ کا خاتمہ چاہتا ہے۔

محمد باقر قالیباف نے زور دے کر کہا کہ ایٹمی معاہدے میں شامل ملکوں نے اگر اپنے وعدوں اور معاہدوں پرعمل نہیں کیا تو پھر کیوں ایران جوہری شعبے میں اپنے وعدوں پر عمل کرتا رہے اور یہ کہ ایران سیف گارڈ قاعدے کے تحت جوہری سرگرمیاں جاری رکھے گا اور مقابل فریقوں کو چاہئے کہ بین الاقوامی ایٹمی معاہدے اور اس سے متعلق اپنے تمام وعدوں پر عمل کریں۔

ایران کے خلاف امریکہ کی ظالمانہ پابندیاں ختم کرانے کے لئے ویانا مذاکرات کا نیا دور چار اگست سے شروع ہو کر آٹھ اگست تک جاری رہا۔

مذاکرات کے اس دور میں یورپی یونین کے کوآرڈینیٹر انریکہ مورے نے کچھ تجاویز پیش کیں اور ویانا مذاکرات میں شامل تمام فریق ممالک مذاکرات کو جلد سے جلد نتیجے پر پہنچائے جانے کے خواہاں ہیں جبکہ ایک اچھے مستحکم اور دیرپا سمجھوتے کے حصول کا دار ومدار خاصطور سے بعض مسائل میں امریکہ کے سیاسی عزم اور اس کے فیصلے پر ہے ۔

 

ٹیگس