Dec ۲۵, ۲۰۲۲ ۱۸:۰۲ Asia/Tehran
  • ایرانی ماہرین نے گراؤنڈ بیس ریڈار سینسر تیار کرلیا

تہران یونیورسٹی کے محققین نے ایک ایسا گراؤنڈ ریڈار سینسر بنانے میں کامیابی حاصل کی جسے دن یا رات میں کسی بھی وقت استعمال کیا جا سکتا ہے۔

سحر نیوز/ ایران: تہران یونیورسٹی کی فیکلٹی آف میپنگ اینڈ جیو اسپیشل انفارمیشن انجینئرنگ کے محققین کا تیار کردہ یہ زمینی سینسر جی بی ایس اے آر ٹیکنالوجی پر استوار ہے۔ یہ سینسر زیر زمین آنے والی تبدیلیوں کا پتہ لگانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اسے دن اور رات دونوں اوقات میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔
تہران یونیورسٹی کی تعلقات عامہ کی رپورٹ کے مطابق ریموٹ سینسنگ کا استعمال خلا ، فضا اور زمین تینوں میدانوں میں کیا جاتا ہے۔
اس قسم کے گراؤنڈ ریڈار سینسر کا استعمال آثارقدیمہ کا پتہ لگانے، تعمیر شدہ پلوں، فلک شگاف عمارتوں اور سب وے اسٹیشنوں  کے بنیادی ڈھانچے میں ہونے والی اندرونی تبدیلیوں کا پتہ لگانے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
 اس قسم کے سینسروں کو کار انڈسٹری کے علاوہ میڈیکل کے شعبے میں بھی استعمال کیا جاتا ہے اور ان کی مدد سے دل کی ڈھڑکنوں اور پسلیوں کی ساخت اور ٹوٹ پھوٹ کا بھی پتہ لگایا جاسکتا ہے۔  
یہ ریڈار سینسر لیبارٹری ٹیسٹ کے مراحل سے گزرہا ہے  اور اس کی کارکردگی جانچنے کے بعد اسے حقیقی ماحول میں استعمال کیا جائے گا۔

 

ٹیگس