Mar ۲۲, ۲۰۲۳ ۱۴:۵۰ Asia/Tehran
  •  ایران اور سعودی عرب کے تعلقات علاقے کے مفاد میں ہے، متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ نے ایران اور سعودی عرب کے تعلقات کو مثبت اور پورے علاقے کے مفاد میں قرار دیا ہے۔

سحر نیوز/ عالم اسلام: ارنا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ حسین امیرعبداللہیان نے منگل کی رات متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید سے ٹیلی فون پر مختلف مسائل کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔ 

متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید نے اس ٹیلی فونی گفتگو میں عید نوروز اور اس عید کے ماہ مبارک رمضان سے منسلک ہونے پر ایران کی حکومت اور قوم کو مبارک باد پیش کی۔ 

متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید نے اسی طرح ایران اور سعودی عرب کے تعلقات کو مثبت اور پورے علاقے کے مفاد میں قرار دیا۔

انھوں نے اسی طرح امید ظاہر کی کہ دمشق اور ابو ظہبی کے تعلقات، علاقے میں امن و استحکام کو زیادہ سے زیادہ مضبوط بنانے اور مسلم ملکوں کی مصلحتوں اور مفادات کی خاطر قابل قبول حد تک فروغ پائیں گے۔

اس ٹیلی فونی گفتگو میں متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید نے ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبد اللہیان کو ابوظہبی کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دی۔

اس گفتگو میں ایران کے وزیر خارجہ حسین امیرعبداللہیان نے بھی کہا کہ یہ بات باعث خوشی ہے کہ ایران اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات مختلف سیاسی، اقتصادی اور تجارتی شعبوں میں فروغ پا رہے ہیں اور دونوں ملکوں کے سیکیورٹی و اقتصادی حکام کے درمیان حالیہ تعمیری مذاکرات ماضی سے کہیں زیادہ تعلقات کی توسیع کا زمینہ ساز بنیں گے۔ انھوں نے اسی طرح مشترکہ اقتصادی و تجارتی اجلاس تشکیل دیئے جانے کی ضرورت پر زور دیا۔ 

ایران کے وزیر خارجہ حسین امیرعبداللہیان نے ایران اور سعودی عرب کے حالیہ سمجھوتے کو علاقے کے ملکوں کے درمیان تعاون و یکجہتی کی راہ میں اہم قرار دیا اور شام و متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات کی تقویت پر خوشی کا اظہار کیا۔  

وزیر خارجہ حسین امیرعبداللہیان نے کہا کہ تہران اور ابو ظہبی کے درمیان صلاح و مشورے اور اس عمل کا فروغ دونوں ملکوں کے تعلقات کی توسیع میں نہایت مددگار ثابت ہو گا۔

دریں اثنا امریکی ہیل ویب سائٹ نے لکھا ہے کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والا سمجھوتہ اسرائیل کے الگ تھلک ہوجانے کا باعث بنے گا۔

مغربی ایشیا کے سیاسی اطلاعات کے مرکز کے سربراہ اریک منڈل نے ہیل ویب سائٹ پر اپنے ایک کالم میں ایران اور سعودی عرب کے درمیان سمجھوتے میں چین کی سہولت کاری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ چین کی اس حیرت انگیز سفارتکاری کے نتیجے میں علاقے میں اسرائیل کے اتحادی کی حیثیت سے امریکہ بھی کنارے لگنے پر مجبور ہو جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایٹمی ایران کے خلاف علاقے کے ملکوں کے اتحاد کی تشکیل سے متعلق اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو کی امید اب دم توڑتی جا رہی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ دو طرفہ تعلقات کی بحالی سے متعلق چین کی ثالثی سے ایران اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے سمجھوتے کا علاقے کے ملکوں نے خیرمقدم کیا ہے اور یہ اقدام صیہونی حکام کے لئے باعث تشویش اور امریکی حکام کے لئے انتباہ کا موجب بنا ہے اور اس بات کی امید ہو چلی ہے کہ اس سمجھوتے کے نتیجے میں مغربی ایشیا سے کشیدگی کم کرنے اور جنگ یمن کا خاتمہ کرنے میں بہت مدد ملے گی اور مجموعی طور پر علاقے کے حالات بہتر سے بہتر ہوتے چلے جائیں گے۔ 

ٹیگس