Mar ۲۸, ۲۰۲۳ ۱۸:۳۷ Asia/Tehran
  • ایٹمی مذاکرات کے دروازے ہمیشہ کھلے نہیں رہیں گے: ایرانی وزیر خارجہ

وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ایٹمی مذاکرات کے دروازے ہمیشہ کھلے نہیں رہ سکتے۔

سحر نیوز/ ایران:  ایران کے وزیر خارجہ حسین امیرعبداللہیان نے الجزیرہ ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ پارلیمنٹ مجلس شورائے اسلامی میں ایک قانونی بل تیار ہو رہا ہے جس میں ایٹمی مذاکرات کے مدت کے لئے حد مقرر کی جا رہی ہے، لہذا مقابل فریقوں کو سمجھ لینا چاہئے کہ مذاکرات کے دروازے ہمیشہ کھلے نہیں رہیں گے۔ 

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔  وزیر خارجہ نے مذاکرات کے سلسلے میں قطر کے مثبت کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ دوحہ نے ایران اور امریکہ کے مابین قیدیوں کے تبادلے اور ایٹمی معاہدے کے سلسلے میں بھی مثبت کردار ادا کیا ہے۔

 قابل ذکر ہے کہ ایٹمی معاہدے کی بحالی کے سلسلے میں ویانا میں ہونے والے مذاکرات ایسے مرحلے پر پہنچ چکے ہیں کہ اگر امریکہ ایک اہم سیاسی فیصلہ کرلے تو ایک قابل بھروسہ اور مستحکم معاہدہ ممکن ہے۔  یاد رہے کہ واشنگٹن کے دعووں کے باوجود، امریکہ نے سن دو ہزار اٹھارہ میں یکطرفہ طور پر جے سی پی او اے سے نکلنے کا اعلان کرکے ایران پر پابندیاں عائد کی تھیں ۔ اس وقت بھی صیہونی لابی کے دباؤ اور بائیڈن حکومت کو درپیش اندرونی چیلنجوں کے پیش نظر، واشنگٹن ایٹمی معاہدے میں واپس نہ آنے کے لئے بہانے بازی کر رہا ہے اور بے بنیاد الزامات عائد کرکے ایران کو موجودہ حالات کا ذمہ دار ٹہرا رہا ہے۔  تہران کا منطقی موقف یہ ہے کہ امریکہ کو ایٹمی معاہدے میں واپسی کی صورت میں اس معاہدے کی تمام شقوں پر عملدرامد کی ضمانت فراہم کرنا ہوگی اور آئی اے ای اے کو بھی اضافی سوالات سے باز رہنا ہوگا۔

 

ٹیگس