ای سی او کو نئی ساخت اور اصلاحات درکار ہیں: ایرانی وزیر خارجہ
ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نےاقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کے اغراض و مقاصد میں بنیادی تبدیلیوں اور تنظیم نو کو وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیا ہے۔
سحرنیوز/ایران: تنظیم کی وزراتی کونسل کے 29ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں ای سی او کو پیراڈائم شفٹ اور بنیادی ڈھانچے میں اصلاح کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک نیا وژن تشکیل دینے کے لیے، ہم ماضی کے فرسودہ فریم ورک اور اندر نہیں رہ سکتے اور نہ ہی اہم عالمی اور علاقائی تبدیلیوں اور چیلنجوں کو نظر انداز کرسکتے ہیں۔
ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ای سی او ممالک کو مستقبل کے ممکنہ خطرات اور جھٹکوں کے خلاف مزید مضبوط، متحد اور طاقتور بننا ہوگا۔انہوں نے ای سی او کو رکن ممالک کی اجتماعی ترقی اور پیشرفت کے لیے دستیاب بہترین پلیٹ فارم قرار دیتے ہوئے کہا کہ تنظیم کی ویژن کمیٹی کو اگلے 10 سال کے لیے زیادہ مناسب، موثر اور قابل عمل دستاویز تیار کرنا چاہیے۔
سید عباس عراقچی نے کہا کہ جون 2025 میں امریکہ کی صیہونی حکومت نے ایران کے خلاف دہشت گردانہ ، جارحانہ اور غیر قانونی حملے کیے؛ جو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی تھے۔
انہوں نے کہا کہ 12 دن کی وحشیانہ جارحیت کے دوران، انہوں نے شہریوں، پرامن ایٹمی تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایران کو کافی انسانی اور مادی نقصان اٹھانا پڑا اور اس صورتحال نے ای سی او سیکرٹریٹ کی روزمرہ کی سرگرمیاں بھی متاثر کیا۔
ایران کے وزیر خارجہ نے یہ بات زور دے کر کہی کہ ہماری مسلح افواج نے اپنے جائز دفاع کا حق استعمال کیا اور خطے میں جنگ کو پھیلنے سے روک دیا۔ انہوں نے کہا کہ میں اس بحران کے دوران ای سی او کے رکن ممالک کے ذمہ دارانہ موقف کی تعریف کرتا ہوں۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok