Dec ۲۲, ۲۰۲۵ ۰۷:۲۲ Asia/Tehran
  • انصاف پر مبنی معاہدہ منظور، مسلط شرائط ناقابلِ قبول: ایرانی وزیر خارجہ

ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا کہ ہم مذاکرات کے ذريعے کسی منصفانہ اور متوازن معاہدے کے لیے تیار ہیں لیکن ڈکٹیشن ہرگز قبول نہیں کریں گے۔

سحرنیوز/ایران: وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اپنے دورہ ماسکو کے دوران رشیا ٹوڈے کے خصوصی پروگرام ورلڈ پلس سے گفتگو کرتئے کہا کہ ہم ایک منصفانہ اور متوازن معاہدے کے لیے تیار ہیں جو مذاکرات کے ذریعے طے پائے لیکن ہم ڈکٹیشن قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم باہمی مفادات کی بنیاد پر کسی منصفانہ اور متوازن معاہدے  کے لیے مذاکرات کی تجویز پر غور کرسکتے ہیں۔

ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ رواں سال کے دوران ہمیں تلخ تجربات کا سامنا کرنا پڑا اور مذاکرات کے دوران ہم پر حملہ کیا گيا، اسنیپ بیک میکنزم کے حوالے سے ہماری بہترین تجاویز کو بھی فریق مقابل نے  قبول نہیں کیا۔

سید عباس عراقچی نے کہا کہ اس رویئے سے ہم نے محسوس کیا کہ فریق مقابل کسی منصفانہ ڈیل کے لیے تیار نہیں ہے۔

ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی حملے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیر خارجہ نے کہا کہ اگرچہ ہماری ایٹمی تنصیبات کو بہت زیادہ نقصاد پہنچا ہے لیکن اچھی بات یہ ہے کہ ایٹمی ٹیکنالوجی اب بھی ہمارے پاس موجود ہے اور ہماری ٹیکنالوجی کو بمباری کرکے تباہ نہیں کیا جاسکتا۔

ایران کے وزیر خارجہ نے ایک بار پھر اس موقف کا اعادہ کیا کہ تہران ایٹمی ٹیکنالوجی کے پرامن استعمال کے حق سے ہرگز دستبردار نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ایٹمی یورینیم کی افزودگی اور ایٹمی ٹیکنالوجی کے پرامن استعمال کا تہیہ کر رکھا ہے۔

ہمیں فالو کریں: 

Follow us: FacebookXinstagram, tiktok  whatsapp channel

سید عباس عراقچی نے واضح کیا کہ ایٹمی ٹیکنالوجی ہمارے سائنس دانوں نے خود تیار کی ہے اور اس کی خاطر انہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ بھی پیش کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تہران اس بات کی یقین دہانی  کے لیے تیار ہے کہ ہمارا پروگرام پرامن ہے اور ہمیشہ پرامن رہے گا اور یہ کام ہم نے 2015 میں ایٹمی معاہدے کی شکل میں بھی کیا تھے۔

ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم نے پابندیاں ہٹانے کے بدلے اپنے ایٹمی پروگرام کی پرامن نوعیت کے بارے میں اعتماد سازی کی غرض سے ایٹمی معاہدے کو قبول کیا تھا۔

ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمیں افسوس ہے کہ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی آئی اے ای اے کے ڈائریکٹرجنرل ہماری پرامن ایٹمی تنصیبات پر حملے اور جارحیت کی مذمت کرنے سے بھی گریزاں تھے اور اب بھی ہیں۔    

انہوں نے کہا کہ ہماری ایٹمی تنصیبات کو اس وقت جارحیت کا نشانہ بنایا گيا جب وہ مکمل طور پر آئی اے ای اے کی نگرانی اور سیف گارڈ معاہدے میں شامل تھیں۔

ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ دنیا میں ایسی ایک بھی مثال نہیں ملے گی کہ عالمی ادارے کی نگرانی میں کام کرنے والی ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہو۔

ٹیگس