ایران کی یورپی یونین کے بے بنیاد فیصلے کی شدید مذمت
ایران کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اس غیرقانونی اور بے بنیاد فیصلے کی سخت مذمت کی ہے جس میں اسلامی جمہوریہ ایران پر الزامات لگائے گئے اور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔
سحرنیوز/ایران: ارنا کی رپورٹ کے مطابق بیان میں کہا گیا ہے کہ پاسداران انقلاب اسلامی ایران کی مسلح افواج کا آئینی اور سرکاری حصہ ہے اور اس نے قومی سلامتی کے تحفظ، علاقائی استحکام اور دہشت گردی، خصوصاً داعش، کے خلاف اہم کردار ادا کیا ہے۔
وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ کسی سرکاری اور قومی ادارے کو دہشت گرد قرار دینا بین الاقوامی قوانین، ریاستی خودمختاری اور عدم مداخلت کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی اور ایک خطرناک مثال ہے۔
بیان کے مطابق یہ اشتعال انگیز اقدام صہیونی حکومت اور اس کے جنگ پسند حامیوں کو خوش کرنے کے لیے کیا گیا ہے، جس سے یورپی یونین کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے اور دنیا کو قانون جنگل کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔
ایران نے یورپی ممالک کے انسانی حقوق سے متعلق دعوؤں کو منافقانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی ممالک ماضی میں صدام حسین کی جنگ اور حالیہ دہائیوں میں ظالمانہ پابندیوں کے ذریعے ایرانی عوام کے خلاف جرائم میں شریک رہے ہیں۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel
آخر میں وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ اس فیصلے کے سیاسی، قانونی اور سلامتی کے نتائج کی ذمہ داری یورپی پالیسی سازوں پر ہوگی، اور ایران اپنے قومی مفادات اور خودمختاری کے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔
اس درمیان ایران کی مجلسِ شورائے اسلامی کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے خلاف یورپ کے حالیہ سیاسی اقدام پر سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ سپاہ پاسداران دنیا کی سب سے طاقتور اور مؤثر انسداد دہشت گردی فورسز میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق صرف وہی لوگ سپاہ کی داعش کے خلاف جدوجہد کی تاریخ کو جھٹلا سکتے ہیں جو خود دہشت گردوں کے کیمپ میں کھڑے ہوں۔
قالیباف نے خبردار کیا کہ دہشت گردی کی حمایت کا انجام یورپی ممالک کے لیے سوائے پچھتاوے کے کچھ نہیں ہوگا۔
ادھر ایران کی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے یورپی یونین کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کو دہشت گرد قرار دینے کے فیصلے پر شدید رد عمل ظاہر کیا ہے اور کہا ہے کہ اس اقدام کے خطرناک نتائج کی براہ راست ذمہ داری یورپی سیاست دانوں پر عائد ہوگی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یورپی یونین کا یہ غیرمنطقی، غیرذمہ دارانہ اور تعصب پر مبنی اقدام دراصل امریکہ اور صیہونی حکومت کی جارحانہ اور غیرانسانی پالیسیوں کی اندھی تقلید کا نتیجہ ہے۔ یہ فیصلہ ایرانی قوم، مسلح افواج، ملک کی سلامتی اور اسلامی جمہوریہ ایران کی خودمختاری کے خلاف یورپی قیادت کی گہری دشمنی اور عداوت کو ظاہر کرتا ہے۔