ڈائیلیسس کی دوا لانے والے جہاز پر امریکہ نے حملہ کردیا
ایران شپنگ کمپنی کے مینیجنگ ڈائریکٹر نے ڈائیلیسس کی دوا لانے والے جہاز پر امریکی حملے کا مسئلہ بین الاقوامی عدالتوں میں اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔
سحرنیوز/دنیا: ارنا کی رپورٹ کے مطابق ایران شپنگ کمپنی کے مینیجنگ ڈائریکٹر محمد رضا مدرس خیابانی نے بتایا ہے کہ ڈائیلیسس کے مریضوں کے لئے دوا لانے والے بحری جہاز توسکا پر امریکہ نے اس وقت حملہ کیا تھا جب جنگ بندی نافذ تھی۔
انھوں نے بتایا کہ ایران شپنگ کمپنی ایک تجارتی کمپنی ہے اور بین الاقوامی اصول و ضوابط کے مطابق اس کو کھلے سمندر میں جہازرانی کا حق حاصل ہے اور تجارتی جہاز پر حملہ جنگ بندی کی خلاف ورزی اور جنگی جرم ہے۔
ایران شپنگ کمپنی کے ایم ڈی نے بحری محاصرے کو بین الاقوامی قوانین کے منافی بتایا اور کہا کہ بحری محاصرہ اور توسکا بحری جہاز پر حملہ دشمنانہ اقدام ہے اور یہ بحری جہاز، ڈائیلیسس کے مریضوں کے لئے دوا لارہا تھا کہ امریکی بحریہ نے اس پر حملہ کردیا اور اس کے عملے کے 28 افراد کو یرغمال بنالیا جن میں عملے کے دو افراد کی بیویاں اور ایک 11 سالہ بچہ بھی شامل ہے۔
انھوں نے کہا کہ ایران شپنگ کمپنی ایک تجارتی کمپنی ہے اور اس کا توسکا بحری جہاز چونکہ دوا لارہا تھا، اس لئے اس کی اہمیت کے پیش نظر وہ ایرانی سمندری حدود کی طرف بڑھا لیکن دشمن کے جنگی بحری جہاز نے جنگ بندی کے وقت اس کو روک کر جنگی جرم کا ارتکاب کیا ہے، اس لئے بین الاقوامی عدالتوں میں اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔
انھوں نے اس سے پہلے بھی ایک گفتگو میں کہا تھا کہ توسکا بحری جہاز کے عملے کے افراد نے ثابت کردیا ہے کہ مقدس دفاع، ظالمانہ پابندیوں اور 12 روزہ مسلط کردہ جنگ کی طرح تیسری مسلط کردہ جنگ کے دوران بھی وہ عوام کی ضرورت کی اشیا کی فراہمی میں ہمیشہ جاں نثاری کے لئے تیار ہیں۔
ایران شپنگ کمپنی کے ایم ڈی نے کہا کہ توسکا بحری جہاز کے کپتان اور عملے کے افراد نے شجاعت،ذمہ داری اور پیشہ ورانہ فرائض کی پابندی میں تاریخ رقم کی ہے۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel