Dec ۱۵, ۲۰۱۵ ۰۷:۳۶ Asia/Tehran
  • یمن کی عوامی تحریک انصاراللہ کے سیاسی دفتر کے رکن محمد البخیتی
    یمن کی عوامی تحریک انصاراللہ کے سیاسی دفتر کے رکن محمد البخیتی

یمن کی عوامی تحریک انصاراللہ کے سیاسی دفتر کے رکن نے کہا ہے کہ سعودی عرب، یمنی عوام کے مطالبات کے سامنے جھکنے پر مجبور ہو گیا۔

یمن کی عوامی تحریک انصاراللہ کے سیاسی دفتر کے رکن محمد البخیتی نے لبنان کے المنار ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے باب المندب میں سعودی فوجی ٹھکانوں پر یمنی فوج کے حملے کو بحران یمن سے متعلق جینوا مذاکرات سے غیر مربوط قرار دیا اور کہا کہ باب المندب میں جارح سعودی فوج کے ہیڈکوارٹر پر توشکا میزائل سے حملہ، سرزمین یمن کو جارحیت کا نشانہ بنائے جانے کے خلاف یمنی عوام کے مستحکم عزم و ارادے کا مظہر ہے۔ انھوں نے سعودی اتحاد کی جانب سے ایک ہفتے کی فائربندی کے اعلان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یمنی فوج اور عوام، فائربندی کے اس اعلان پر عمل کریں گے تاہم فائربندی کی خلاف ورزی کی صورت میں سعودی عرب کی ہر قسم کی جارحیت کا منھ توڑ جواب دیا جائے گا۔

محمد البخیتی نے سعودی فوجی جارحیت کے مقابلے میں یمنی فوج اور عوام کے مستحکم عزم و ارادے کو یمن کے مقابلے میں سعودی اتحاد کی شکست کا باعث قرار دیا اور کہا کہ یمنی قوم نے پوری تاریخ میں اس بات کو ثابت کیا ہے کہ جب بھی اس کے ملک کو جارحیت کا نشانہ بنایا گیا اس نے پوری توانائی سے منھ توڑ جواب دیا ہے۔ انھوں نے مذاکرات کے آغاز کے لئے یمنی شہروں سے انصاراللہ کے انخلاء سے متعلق شرطوں سے آل سعود حکام کی پسپائی کو سعودی اتحاد کی شکست کا آئینہ دار قرار دیا اور کہا کہ سعودی عرب کی جانب سے فائربندی کا اعلان، یمنی فوج اور عوام کی استقامت کا نتیجہ ہے۔

ٹیگس