Apr ۰۲, ۲۰۱۶ ۱۰:۰۱ Asia/Tehran
  • یمن پر سعودی عرب کے جارحانہ حملے

یمن کے مختلف علاقوں پر سعودی عرب کے جارحانہ حملوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

العہد ویب سائٹ کے مطابق سعودی عرب کے لڑاکا طیاروں نے دارالحکومت صنعا کے علاقے بنی مطر پر بمباری کر کے درجنوں رہائشی مکانات کو تباہ کر دیا۔ جنوبی یمن کے شہر تعز کے شمال میں الستین پر سعودی عرب کی جارحیت میں بھی پانچ یمنی شہری زخمی ہو گئے جبکہ کئی مکانات اور دوکانیں تباہ ہو گئیں۔

شہر تعز کے مغربی مضافات میں الضباب اور الربیعی علاقوں کو بھی سعودی عرب کے لڑاکا طیاروں نے اپنے حملے کا نشانہ بنایا۔ دریں اثنا یمن کے مختلف علاقوں پر سعودی عرب کی جارحیت کے خلاف یمنی عوام نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ یہ مظاہرہ صنعا کے بنی حشیش علاقے میں کیا گیا۔ مظاہرین نے یمن پر سعودی عرب کی جارحیت اور اس ملک کی بنیادی تنصیبات کو تباہ کئے جانے پر عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی خاموشی کی شدید مذمت کی۔

واضح رہے کہ غریب عرب ملک یمن کے مختلف علاقوں پر سعودی عرب کی وحشیانہ جارحیت کا یہ سلسلہ گذشتہ سال مارچ سے جاری ہے جس میں اب تک ہزاروں یمنی عام شہری شہید و زخمی اور اس ملک کی اسّی فیصد سے زائد بنیادی تنصیبات تباہ ہو چکی ہیں جبکہ اس ملک کے مظلوم عوام کو غذائی اشیاء اور دواؤں کی شدید قلّت کا سامنا ہے۔

دوسری جانب یمن کی عوامی انقلابی تحریک انصار اللہ نے اپنے ملک میں متحدہ قومی حکومت تشکیل دینے کے لئے تمام یمنی گروہوں سے کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔ انصار اللہ کی سیاسی کونسل کے رکن محمد البخیتی نے تمام یمنی گروہوں سے متحدہ قومی حکومت تشکیل دینے کی اپیل کی۔ اس سے قبل تحریک انصار اللہ کے ترجمان محمد عبد السلام نے بھی بحران یمن کی راہ حل، حکومت کے عمل میں تمام یمنی فریقوں کے درمیان مفاہمت قرار دیا اور کہا کہ یمن میں حکومت کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ صرف یمنی عوام ہی کر سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ یمن کے امور میں اقوام متحدہ کے نمائندے اسماعیل ولد الشیخ نے کہا ہے کہ یمن میں دس اپریل سے فائر بندی پر عمل اور اٹھارہ اپریل سے کویت میں یمن کے امن مذاکرات شروع ہو جائیں گے۔

ٹیگس