انصاراللہ بحران یمن کے حل کے لئے گفتگو کا خیرمقدم کرتی ہے: محمد علی الحوثی
یمن کی اعلی انقلابی کمیٹی کے سربراہ محمد علی الحوثی نے ایک بار پھر تاکید کی ہے کہ انصاراللہ بحران یمن کے خاتمے کے لئے مذاکرات کا خیرمقدم کرتی ہے-
موصولہ رپورٹ کے مطابق یمن کی اعلی انقلابی کمیٹی کے سربراہ محمد علی الحوثی نے کہا ہے کہ انصار اللہ پہلے ہی دن سے کہہ رہی ہے کہ بحران یمن کا حل جنگ نہیں ہے اور اس بحران کے خاتمے کے لئے ہم ہمیشہ گفتگو اور مذاکرات کی حمایت کرتے رہے ہیں-
محمد علی الحوثی نے کہا کہ ہم نے ابتداء سے ہی دوطرفہ معاہدوں کا احترام کیا ہے اور سعودی عرب کے ساتھ اچھے پڑوسی کے اصولوں پر کاربند رہے ہیں لیکن سعودی حکومت ہمارے عوام کے گھروں ، اسکولوں ، خواتین اور بچوں حتی شادی کی تقریبات پر بمباری کر رہی ہے اور اس نے بےگناہ اور نہتے عوام کے خلاف بھرپور جنگ چھیڑ رکھی ہے-
انہوں نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ صرف ہماری ہی طرف سے بحالی اعتماد کی کوششں نہیں ہونی چاہئے کہا کہ ہم نے حملے روک دیئے اور سعودی عرب کے ساتھ قیدیوں کا تبادلہ بھی کیا لیکن افسوس کہ سعودی عرب نے اس سلسلے میں کوئی قدم نہیں اٹھایا اور وہ معاہدوں کی پابندی نہیں کرتا لیکن اس کے باوجود ہمیں امید ہے کہ سعودی عرب اور دوسروں کی سمجھ میں آجائے گا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ ملت یمن اور علاقے کی قوموں کے حق میں نہیں ہے-
سعودی عرب ،امریکہ اور علاقے کے بعض ملکوں کے ساتھ مل کر چھبیس مارچ دوہزار پندرہ سے یمن کے خلاف بڑے پیمانے پر حملے کر رہا ہے- اس کے ان حملوں کا مقصد یمن کے مستعفی اور مفرور صدر عبد ربہ منصور ہادی کو اقتدار میں واپس لانا ہے-
یمن پر سعودی عرب کے وحشیانہ حملوں میں اب تک عورتوں اور بچوں سمیت ہزاروں بے گناہ عوام شہید ، دسیوں ہزار لوگ بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ اس ملک کی اسی فیصد بنیادی تنصیبات تباہ ہو چکی ہیں-