سعودی عرب یمن کو تقسیم کرنا چاہتا ہے، سابق یمنی صدر
یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح نے کہا ہے کہ سعودی عرب یمن کو تقسیم کرنے کی سازش پر عمل پیرا ہے۔
عرب ٹوئینٹی ون نامی ویب سائٹ کے مطابق، سابق صدر علی عبداللہ صالح نے اتحاد یمن کی سالگرہ کے موقع پر اپنے ایک بیان میں سعودی شاہی خاندان کو یمنی عوام کا دشمن قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی شاہی خاندان نہیں چاہتا کہ یمن کے عوام اپنے ملک میں آزادی و خودمختاری کے ساتھ رہیں بلکہ وہ یمن کو کمزور کرنے کے لیے تمام مالی اور فوجی وسائل کو بروئے کار لا رہا ہے۔
یمن کے سابق صدر نے ملک کی تقسیم کی بابت خبر دار کرتے ہوئے کہا کہ سعودی حکومت اپنے ایجنٹوں کے ذریعے یمن کو ایسے ایسے چھوٹے چھوٹے ملکوں میں تقسیم کرنا چاہتی ہے جو آپس میں ہمیشہ الجھے رہیں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے انیس سو چورانوے میں بھی جنوبی یمن کے سابق صدر علی سالم البیض کو یمن کی تقسیم کے لیے استعمال کیا تھا تاہم ناکام رہا اور آج وہ عبدر بہ منصور ہادی کو اس مقصد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
علی عبداللہ صالح نے سعودی حکام کے اس دعوے کو مضحکہ خیز قرار دیا کہ وہ عبدربہ منصورہادی کی قانونی حکومت کو دوبارہ اقتدار میں لانے کے لیے اقوام متحدہ کی قرارداد بائیس سولہ پر عملدرآمد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عبدربہ منصور ہادی کو دوسال کے عبوری دور کے لیے منتخب کیا گیا تھا جو ختم ہو چکا ہے۔