امن مذاکرات متزلزل مگر حوصلہ افزا ہیں۔ انصاراللہ
یمن کی عوامی تحریک انصاراللہ نے کویت میں جاری امن مذاکرات کو متزلزل مگر حوصلہ افزا قرار دیا ہے۔
انصاراللہ کے مذاکراتی وفد کے سربراہ محمد عبدالسلام نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ مذاکرات میں شریک وفود نے صداقت سے کام لیا تو کسی سمجھوتے کا امکان پایا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکراتی عمل متزلزل ہے اور ہم اب بھی زیرو پوائنٹ پر کھڑے ہیں۔
محمد عبدالسلام نے کہا یمن میں انسانی صورتحال انتہائی خراب ہے، معیشت تباہ ہوکے رہ گئی ہے اوربہت سے علاقوں پر داعش اور القاعدہ نے قبضہ کرلیا ہے۔ رمضان سے قیدیوں کے تبادلے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ہم ایسا اسی وقت کریں گے جب مقابل فریق بھی اس کے لیے تیار ہوں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے واضح کیا کہ کوئی بھی صحافی یا سیاسی قیدی انصار اللہ کی قید میں نہیں ہے اور اس حوالے سے شائع ہونے والی خبریں صداقت سے عاری ہیں۔
انصاراللہ کے مذاکراتی وفد کے سربراہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جب ملک میں کوئی قانونی حکومت بنے گی تب ہم اپنا اسلحہ اس کے حوالے کر دیں گے۔
انہوں نے یہ بات زور دیکر کہی کہ انصاراللہ یمن کی تقسیم کے خلاف ہے ۔
محمد عبدالسلام نے کہا کہ ، ملک کی ارضی سالمیت کا تحفظ، کسی بھی قسم کے منصفانہ اور جامع سمجھوتے کے حصول کی اولین شرط ہے۔