سعودی فوجی اڈے پر یمن کا میزائل حملہ
یمنی فوج اورعوامی رضاکار فورس نے نجران کے علاقے میں واقع سعودی فوجی اڈے کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔
یمنی ذرائع کے مطابق عوامی رضاکار فورس کے جوانوں کی جانب سے چلایا جانے والا زلزال تین میزائل نجران میں واقع سعودی فوج کی ایک چھاؤنی پرجا کر لگا ہے۔ اس حملے میں ہونے والے ممکنہ جانی نقصان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی۔ یمنی فوج نے گزشتہ ہفتے بھی نجران کے علاقے میں واقع سعودی نیشنل گارڈ کی ایک چھاؤنی کوزلزال میزائل سے نشانہ بنایا تھا۔
یمنی ذرائع کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے ملک کے خلاف سعودی جارحیت بند نہیں ہوجاتی اس وقت تک سعودی عرب کے فوجی اہداف کے خلاف میزائل حملے جاری رہیں گے۔
دراین اثنا اطلاعات ہیں کہ سعودی حکومت کے لڑاکا طیاروں نے ہفتے کے روز بھی یمن کے صوبے حجہ اور تعزپربمباری کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کے لڑاکا طیاروں نے صوبہ حجہ کے سرحدی شہرحرض اور صوبہ تعز کے علاقے ذوباب کے پہاڑی علاقے میں آبادیوں کو نشانہ بنایا ہے۔
سعودی عرب نے اپنے بعض علاقائی اتحادیوں کے ساتھ مل کر چھبیس مارچ سنہ دو ہزار پندرہ سے یمن کو جارحیت کا نشانہ بنا رکھا ہے جس کا مقصد اس ملک کے مفرور سابق صدرمنصور ہادی کو اقتدار میں واپس لانا ہے۔ یمنی ذرائع کے مطابق سعودی جارحیت کے نتیجے میں اب تک نو ہزار چار سو یمنی شہری شہید اور سولہ ہزار سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔ شہید اور زخمی ہونے والوں میں بڑی تعداد میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
پندرہ ماہ سے زیادہ عرصے سے جاری سعودی جارحیت میں مشرق وسطی کے اس غریب اسلامی ملک کی اسّی فیصد بنیادی تنصیبات مکمل طور پرتباہ ہوگئی ہیں۔