Jul ۱۹, ۲۰۱۸ ۱۱:۱۰ Asia/Tehran
  • یمن کے عوام پر حملہ کرنے والے سعودی فوجیوں کے لئے عام معافی

سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلمان نے یمن میں تعینات تمام سعودی فوجیوں کے لیے عام معافی کا اعلان کیا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کی جانب سے شائع کیے جانے والے عام معافی کے بیان میں کسی خاص جرم کا ذکر نہیں کیا گیا تاہم کہا گیا کہ یہ اقدام فوجیوں کی بہادری اور قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لے کیا گیا ہے۔

ادھر مڈل ایسٹ مانیٹر کے مطابق شاہی معافی کا اطلاق ان تمام فوجیوں پر ہوگا جو یمنی عوام پر حملوں میں حصہ لے رہے ہیں جبکہ عام معافی کا اعلان خصوصی طور پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی خواہش پر شاہ سلمان نے کیا۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے عرب امارات اور یمنی حکومت کی مدد کے لیے قائم کیے گئے فوجی اتحاد میں شامل دیگر ممالک کی افواج پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ جنوبی یمن میں قائم خفیہ جیلوں میں قید افراد پر بہیمانہ تشدد میں ملوث ہیں اور ساتھ ہی مطالبہ کیا ہے کہ ان واقعات کی جنگی جرائم کے مقدمات کی طرح تحقیقات ہونی چاہیے۔

ایمنسٹی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ اتحادی افواج یمن میں بڑی تعداد میں لوگوں کی جبری گمشدگیوں میں بھی ملوث ہیں جنہیں قید کرلیا جاتا ہے۔

اس سلسلے میں ہیومن رائٹس واچ کے ایک عہدیدار نے گزشتہ برس انکشاف کیا تھا کہ اتحادی افواج کی جانب سے کیے گئے 61 فضائی حملوں میں بازار، اسکولز، ہسپتال اور آبادی پر مشتمل شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 900 کے قریب شہری شہید ہوئے تھے۔

دوسری جانب گزشتہ برس ہی اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں پیش کی گئی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ تحقیقاتی ٹیم کو سعودی عرب کی جانب سے کیے گئے 10 میں سے 8 حملوں میں فضائی کارروائی کے پیچھے کوئی ٹھوس فوجی مقاصد ہونے کے شواہد نہیں ملے۔

یمن پر سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے گزشتہ 3 سال کے حملوں میں جہاں اب تک لاکھوں یمنی شہید، زخمی اور بے گھر ہوئے ہیں وہیں سعودی عرب کے فوجی اب اس جنگ سے تھک چکے ہیں  اور وہ فرار کی راہ اختیار کرنے والے ہیں۔ سعودی ولیعہد نے عام معافی کا اعلان اس لئے کیا ہے تاکہ سعودی فوجی راہ فرار اختیار کرنے کے بجائے یمنی عوام پر حملے جاری رکھیں۔

ٹیگس