Sep ۲۹, ۲۰۱۸ ۱۴:۴۳ Asia/Tehran
  • یمن میں سعودی عرب کے جنگی جرائم کی تحقیقات جاری رکھنے کا اعلان

جارح سعودی اتحاد کے لڑاکا طیاروں نے ایک بار پھر یمن کے رہائشی علاقوں پر بمباری کی ہے جس کے نتیجے متعدد بے گناہ شہری شہید اور زخمی ہو گئے۔

یمن کے المسیرہ ٹیلی ویژن کے مطابق سعودی اتحاد کے لڑاکا طیاروں نے شمالی صوبے حجہ کے رہائشی علاقوں پر بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں متعدد مکانات تباہ ہو گئے۔ سعودی اتحاد کی وحشیانہ بمباری میں کم سے کم دو عام شہری شہید اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔
صوبہ صعدہ کے رہائشی علاقے باقم پر بھی سعودی حکومت کے لڑاکا طیاروں نے کئی بار بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں درجنوں رہائشی مکانات تباہ ہو گئے۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ باقم پر سعودی جارحیت میں متعدد عام شہری شہید ہوئے ہیں۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی بھرپور مخالفت کے باوجود یمن میں سعودی اتحاد کے جنگی جرائم کی عالمی سطح پر تفتیش کی بحالی کے لیے ووٹ دے دیا۔
اقوام متحدہ کی حمایت سے تحقیقات کے لیے 47 رکنی کونسل میں ہونے والی ووٹنگ کے دوران 21 حق میں اور 8 ممالک نے مخالفت میں ووٹ دیا جبکہ 18 اراکین نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
اقوام متحدہ کے ماہرین نے اپنی رپورٹ میں یمن کے مفرور اور مستعفی صدر منصور ہادی کی حکومت اور سعودی اتحاد کے جنگی جرائم کا پردہ چاک کیا تھا۔
یمن کے لیے اقوام متحدہ کی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ کمال الجندوبی نے جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سعودی اتحاد نے یمن کا سمندری اور فضائی محاصرہ بھی کر رہا ہے اور امداد رسانی کے عمل میں مسلسل رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے جبکہ یمن کے تمام علاقوں میں سعودی اتحاد کے ہاتھوں غیر قانونی گرفتاریوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یمن کے تقریبا بائیس ملین لوگوں کو فوری طور پر انسانی امداد کی ضرورت ہے۔ بچوں کے عالمی ادارے یونسیف نے بھی اپنے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ چار لاکھ یمنی بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں جبکہ سعودی جارحیت کے آغاز سے اب تک پانچ ہزار بچے شہید یا معذور ہو چکے ہیں۔
یمن کے لیے انسانی امداد کی عالمی کوآرڈینیٹر لیز گرینڈ بھی خبردار کرچکی ہیں کہ یمن کی تین چوتھائی آبادی کو کسی نہ کسی قسم کی امداد کی ضرورت ہے اور ہر دس منٹ میں ایک بچہ جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال کے نتیجے میں موت کے منہ میں جا رہا ہے۔
خیال رہے کہ یمن کے خلاف  مارچ 2015 سے جاری سعودی جارحیت میں اب تک چودہ ہزار افراد مارے جا چکے ہیں اور اقوام متحدہ نے بحران کو دنیا کا سنگین انسانی بحران قرار دیا تھا۔

ٹیگس