یمنی فوج کے حملے میں درجنوں سعودی فوجی ہلاک
یمنی فوج اورعوامی رضاکار فورس کے جوانوں نے میزائلی حملے کرکے درجنوں سعودی فوجیوں کو ہلاک کردیا ہے۔ دوسری جانب یمن کی سالویشن گورنمنٹ کے وزیرخارجہ نے امریکہ کو اسٹاک ہوم امن معاہدے پر عملدرآمد کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے۔
یمنی فوج کے ترجمان یحیی السریع نے بتایا ہے کہ جنوبی سعودی عرب کے صوبے نجران کے علاقے البقع پر کیے جانے والے میزائلی حملوں میں کم سے کم چالیس سعودی فوجی ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔
اس رپورٹ کے مطابق بڑی تعداد میں سعودی فوجی یمن میں پیشقدمی کی غرض سے اس علاقے میں جمع ہوئے تھے کہ یمنی فوج نے اپنے حملوں کا نشانہ بنا کراس منصوبے کو ناکام بنادیا۔اس حملے کے بعد سعودی جنگی طیارے کافی دیر تک علاقے کی فضاؤں میں پرواز کرتے رہے اور ناکام واپس لوٹ گئے۔
یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے جوانوں نے اتوار کی شب سعودی عرب کے جنوبی صوبے عسیر میں واقع فوجی اہداف کو دیسی طور پر تیار کیے جانے والے زلزال میزائل اور راکٹوں سے نشانہ بنایا تھا۔
المسیرہ ٹیلی ویژن کے مطابق فوج اور عوامی رضاکار فورس کے جوانوں نے صوبہ عسیر کے علاقوں ربوعہ، مجازہ اور علب میں بھی سعودی فوجی ٹھکانوں کو اپنے حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ ان حملوں میں درجنوں سعودی فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔
یمنی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسٹاک ہوم امن معاہدے کی خلاف ورزیوں کے جواب میں یمنی فوج اور عوامی رضاکاروں نے سعودی فوجی اہداف پر حملے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
دوسری جانب یمن کے سالویشن گورنمنٹ کے وزیر خارجہ ہشام شرف نے کہا ہے کہ ان کی حکومت امریکا کو اسٹاک ہوم معاہدے پر عملدرآمد کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور امریکہ کے دیگر اتحادی واشنگٹن کے حکم سے اسٹاک ہوم امن معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
یمن کی سالویشن حکومت کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ یمن کے عوام امن کے خواہاں ہیں تاہم وہ دشمنوں کے سامنے ہرگز سر تسلیم خم نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ جنگ یمن کے خاتمے کے لیے متعدد کوششیں کی جا چکی ہیں لیکن سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی رخنہ اندازیوں کی وجہ سے ناکام ہوگئیں۔