سعودی شہر ابہا کے ہوائی اڈے پر یمنی فوج کا ڈرون حملہ
یمنی فوج کے ڈرون طیاروں نے ایک بار پھر سعودی عرب کے جنوبی شہر ابہا کے ہوائی اڈے پر حملہ کیا ہے۔
یمن کی مسلح افواج کے ترجمان یحیی سریع نے کہا ہے کہ یمنی فوج کے قاصف ٹو کے ڈرون طیاروں نے ابہا ہوائی اڈے پر بمباری کی ہے۔
یمنی ذرائع نے اعلان کیا ہے کہ اس ڈرون حملے کے بعد ہوائی اڈے کی پروازیں معطل ہوگئیں۔
ابھی تک اس حملے میں ہوئے جانی اور مالی نقصانات کی تفصیلات معلوم نہیں ہوسکی ہیں۔
گذشتہ ایک ہفتے کے دوران سعودی عرب کے ابہا ہوائی اڈے پر یمنی فوج کا یہ چوتھا ڈرون حملہ ہے۔
یمنی فوج کے ترجمان نے پیر کی شام بھی اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ابہا، نجران اور جیزان کے ہوائی اڈے اب یمنی فوج کے حملوں سے محفوظ نہیں رہیں گے اور ان ہوائی اڈوں پرمسلسل حملے کئے جائیں گے۔
یمنی فوج نے پچھلے ہفتوں کے دوران جارح سعودی اتحاد کے خلاف جنگ کے میدان میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
اس درمیان یمن کی اعلی انقلابی کمیٹی کے سربراہ محمد علی الحوثی نے کہا ہے کہ جارح سعودی اتحاد کی طرف سے جاری کئے جانے والے بیان کا مقصد اپنی جارحانہ سرشت پر پردہ ڈالنا اور یمن میں بھوک مری اور قحط سے لوگوں کو منحرف کرنا ہے۔ یمن کی اعلی انقلابی کمیٹی کے سربراہ محمد علی الحوثی نے کہا ہے کہ سعودی ولیعہد بن سلمان کا بیان یمن میں قیام امن کے عمل کی مخالفت کا اعلان ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی حکومت نے ایک اتحاد تشکیل دے کر یمن میں فوجی جنگ کا راستہ انتخاب کیا ہے اور اس وقت وہ الحدیدہ پر دوبارہ حملے کی منصوبہ بندی کرہی ہے۔
یمن کی اعلی انقلابی کمیٹی کے سربراہ محمد علی الحوثی نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو یمن میں موجود دہشت گرد گروہوں کو سب سے بڑا حامی قراردیا اور کہا کہ یمن کے مقبوضہ علاقوں میں جارح سعودی اتحاد کے اقدامات کا مقصد تعمیر نو نہیں بلکہ اپنے غاصبانہ قبضے کو مستحکم بنانا ہے۔ سعودی عرب نے امریکا کی حمایت سے چھبیس مارچ دوہزار پندرہ سے یمن کے نہتے اور مظلوم عوام پر اپنے وحشیانہ حملوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جن کے نتیجے میں اب تک دسیوں ہزار یمنی شہری شہید اور زخمی جبکہ دسیوں لاکھ یمنی باشندے اپنے گھروں سے بے گھر ہوچکے ہیں۔
جارح سعودی اتحاد کے حملوں میں یمن کی بنیادی شہری تنصیبات تباہ ہوچکی ہیں اور اس غریب عرب اور اسلامی ملک میں بھوک مری اور قحط کا دور دورہ ہو گیا ہے۔ لیکن ان تمام تر وحشیانہ مظالم اور حملوں کے باوجود جارح سعودی اتحاد ابھی تک اپنا کوئی بھی مقصد حاصل نہیں کرسکا ہے۔