Jan ۲۶, ۲۰۲۱ ۱۸:۱۵ Asia/Tehran
  • پچیس جنوری یمنی عوام کی حمایت کا عالمی دن (تبصرہ)

پچیس جنوری یمن کے دفاع کا عالمی دن ہے، یمن کے خلاف سعودی اتحاد کی جارحیت کی مذمت میں خود یمن اور بعض دیگر ملکوں میں وسیع پیمانے پر احتجاجی مظاہرے اور میلین مارچ کیئے گئے۔

یمن ایک غریب عرب اور اسلامی ملک شمار ہوتا ہے جو مغربی ایشیا کے علاقے میں واقع ہے۔ یمن میں وسیع غربت کی میراث تین عشروں سے زیادہ ملک میں حکومت کرنے والے علی عبداللہ صالح کی چھوڑی ہوئی ہے۔ اس زمانے میں جب سن دو ہزار گيارہ میں عبداللہ صالح کی ڈکٹیٹر حکومت کے خلاف یمن کے عوام کی تحریک کا آغاز ہوا، ملک کی حکومت عملی طور پردیوالیہ ہوچکی تھی۔

عبداللہ صالح کی حکومت کے خلاف عوامی انقلاب کا اہم مقصد، ایک ایسے نظام حکومت کی تشکیل تھا کہ جو عوامی آراء سے وجود میں آئے اور یمن کے عوام کی سطح زندگی کو بہتر بنانے کے لئے قدم بڑھائے، لیکن امریکہ اور چند یورپی ملکوں کی سرکردگی میں سعودی عرب اور بعض عرب ملکوں کی مداخلت ، باعث بنی کہ یمن میں رونما ہونے والی تبدیلیاں بیرونی طاقتوں کی جانب سے کنٹرول کی جانے لگیں۔  

اس آشکارہ مداخلت کی وجہ، سنہ دو ہزار بارہ کے انتخابات میں واحد امیدوار کہ جو عبداللہ صالح کے دور حکومت میں دو عشروں تک نائب صدر رہنے والے عبد ربہ منصور ہادی کو اقتدار تک پہنچانا تھا۔ منصور ہادی کی ناکامی کے ساتھ، دو ہزار چودہ کے موسم گرما میں یمن کے عوام کا دوسرا انقلاب تشکیل پایا جو ملک سے منصور ہادی کے فرار اور بلآخر غریب عرب اور اسلامی ملک یمن کے خلاف سعودی عرب کے حملے پر منتج ہوا۔

وہ حملہ اب چھ سالہ جنگ کی شکل اختیار کر چکا ہے جس کے باعث اب تک ہزاروں افراد شہید، لاکھوں زخمی، چالیس لاکھ بے گھر اور ملک کا پچاسی فیصد انفرا اسٹیکچر تباہ ہو چکا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل آنٹونیو گوترش نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ یمن عالمی نظام کی حالیہ دو دہائیوں میں انسانی المیے کی سب سے بڑی مثال ہے۔ اس صورت حال کی دو وجوہات ہیں، ایک سنہ دو ہزار گيارہ میں اس ملک میں عربی و مغربی عناصر کی مداخلت اور دوسری سنہ دو ہزار پندرہ سے جاری سعودی اتحاد کی یمن کے عوام کے خلاف جنگ۔

25 جنوری کو یمن کے عوام کے دفاع کا عالمی دن قرار دیا گیا ہے۔ اس دن یمن کے مظلوم عوام کی حمایت میں مختلف ملکوں کے عوام نے مظاہرے کیئے اور سعودی اتحاد کی یمنی عوام کے خلاف مسلط کی جانے والی جنگ کی مذمت کی گئی۔ یمن میں بھی لاکھوں افراد نے اس دن قومی یکجہتی کے مظاہرہ کرنے کے ساتھ غیر ملکی افواج کے یمن پر جاری حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اپنے ملک کی آزادی اور باہمی اتحاد و وحدت پر زور دیا۔

اس مناسبت سے گزشتہ روز یمن اور دیگر ملکوں میں مظاہرے  ہوئے، ان احتجاجی مظاہروں کا اہم پیغام یہ تھا کہ عالمی رائے عامہ یمن کے خلاف آل سعود کی جارحیت منجملہ اس ملک میں غذائی قلت، وبائی امراض، بدامنی اور تباہی و بربادی کا مشاہدہ کر رہے ہیں اور وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ آل سعود مغربی طاقتوں خاص طور پر امریکہ کی حمایت کے سایہ میں اس قسم کے وحشیانہ جرائم کی مرتکب ہو رہی ہے۔  

در حقیقت گزشتہ روز کے مظاہروں اور میلین مارچ سے امریکہ کی نئی حکومت اور نئے صدر جوبائیڈن کو یہ پیغام گیا ہے کہ سابق امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے یمن کے خلاف جنگ میں آل سعود کی حمایت کی پالیسی کو انہیں ختم کرنا ہوگا اور سعودی عرب کو ان جرائم کے ارتکاب سے باز رکھنے کے لئے انہیں اقدامات انجام دینے ہوں گے۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ کی نئی حکومت یمن کے خلاف آل سعود کے جرائم سے آگاہ ہے۔ اس دائرے میں گزشتہ روز نو منتخب امریکی حکومت کی وزارت خزانہ نے، ٹرمپ کی صدارت کے آخری ایام میں تحریک انصاراللہ پر پابندی لگانے کے اقدام کو ایک مہینے کے لئے منسوخ کردیا ہے۔ یہ اقدام، یمن کے خلاف جنگ کے حوالے سے امریکی حکومت کے رحجان میں تبدیلی کا مثبت اشارہ معلوم ہوتا ہے، اور یہ وہی موضوع ہے کہ جس کا مطالبہ گزشتہ روز یمن میں ہونے والے میلین مارچ میں شامل رہا ہے۔

یمن میں اور دیگر ملکوں میں ہونے والے مظاہروں میں سعودی اتحاد کے جرائم اور امریکہ کی جانب سے تحریک انصاراللہ پر پابندی اور اس جماعت کو دہشت گرد قرار دینے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی تھی۔

یہ بھی ملاحطہ کیجئے: یمن سے متعلق سعودی عرب کے متضاد بیانات (تبصرہ)

 

 

ٹیگس