May ۱۹, ۲۰۲۱ ۱۸:۲۰ Asia/Tehran
  • فائربندی کا کوئی سمجھوتہ نہیں ہوا، حماس کا اعلان

فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے اس خبر کی سختی کے ساتھ تردید کی ہے کہ غاصب صیہونی حکومت کے ساتھ فائر بندی کا کوئی سمجھوتہ طے پایا ہے۔

رشا ٹوڈے کی بدھ کے روز کی رپورٹ کے مطابق فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے سیاسی دفتر کے رکن عزت الرشق نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ ان خبروں میں کوئی صداقت نہیں پائی جاتی کہ فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے فائر بندی پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس سے بہت رابطے کئے جا رہے ہیں اور کوششیں ہو رہی ہیں تاہم فلسطینی قوم کی اپنی کچھ شرطیں اور مطالبات ہیں جن کے پورا ہونے تک کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔

فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے ترجمان فوزی برہوم نے بھی فائر بندی کے بارے میں صیہونی ذرائع‏ کی رپورٹوں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس قسم کی رپورٹوں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

دریں اثنا فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے ایک اور سینیئر رہنما مشیر المصری نے کہا ہے کہ جب تک فلسطینی قوم کو تحفظ فراہم نہیں ہو گا غاصب صیہونی بھی، امن و سکون کا احساس نہیں کر پائیں گے۔

انھوں نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ایسے ہی کوئی فائر بندی نہیں ہو سکتی اور اس سلسلے میں فلسطینی قوم کی کچھ شرطیں ہیں جنھیں پورا کرنا ہوگا۔

فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے سینیئر رہنما مشیر المصری نے کہا کہ جب تک فلسطینی قوم کو تحفظ فراہم نہیں ہوگا غاصب صیہونی خود بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔

دوسری جانب صیہونی حلقوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ فلسطین کی تحریک مزاحمت کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں سے اب تک کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا ہے بلکہ جنگ کا میدان ہو یا عالمی سطح پر کئے جانے والے جائزے کا، طاقت کا توازن فلسطین کی تحریک مزاحمت کے حق میں ہے۔

المیادین ٹی وی نے بھی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ صیہونی حلقوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اسرائیل اب تک اپنا کوئی بھی مقصد حاصل نہیں کرسکا ہے جب کہ جنگ میں توازن بھی استقامتی محاذ کے حق میں ہے۔

واضح رہے کہ غزہ پر صیہونی جارحیت کا دسواں روز ایسی حالت میں گذر رہا ہے کہ اسرائیل فائر بندی کی کوشش کر رہا ہے مگر فلسطین کی تحریک مزاحمت غیر مشروط فائر بندی پر تیار نہیں ہے۔

جنگ مسلط کرکے اسرائیل اپنا کوئی بھی مقصد حاصل کرنے میں بری طرح سے ناکام رہا ہے اور اس بات کا اعتراف نہ صرف صیہونی حلقوں بلکہ عالمی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر بھی کیا جا رہا ہے کہ فلسطین کی تحریک مزاحمت نے اسرائیل کو ناکوں چنے چبوا دیئے ہیں اور جنگ میں طاقت کا توازن بھی فلسطین کی تحریک مزاحمت کے حق میں ہے یہی وجہ ہے کہ غاصب صیہونی حکومت کو نہ صرف اسرائیل کی رائے عامہ میں بلکہ عالمی رائے عامہ میں بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اس لئے کہ فلسطینیوں کو جارحیت کا نشانہ بنانے کے نتائج کے بارے میں صیہونی حکومت کے سارے اندازے غلط ثابت ہوئے ہیں۔

 

ٹیگس