Jun ۰۶, ۲۰۲۱ ۱۴:۳۱ Asia/Tehran
  • یمن کے ڈرون، خمیس مشیط کی فضاؤں میں

 یمن کی مسلح افواج نے ایک بار پھر جارح سعودی اتحاد کے حساس مراکز اور فوجی ٹھکانوں پر جوابی حملہ کیا ہے۔ 

جارح سعودی اتحاد کے ترجمان نے اتوار کی صبح اعلان کیا ہے کہ یمن کی مسلح افواج کے ایک ڈرون طیارے نے جنوبی سعودی عرب میں وا‍‏قع عسیر کے علاقے میں سعودی فوجی ٹھکانے کو اپنے حملے کا نشانہ بنایا ہے۔  یمن کی مسلح افواج کے راکٹ و میزائل اور ڈرون حملے کو روکنے میں سعودی اتحاد کی ناکامی و ناتوانی کی تصاویر نشر کئے جانے کے باوجود جارح اتحاد نے اس بات کا دعوی کیا ہے کہ اس نے یمن کی مسلح افواج کے اس ڈرون طیارے کا تعاقب کیا اوراسے فرار ہونے پر مجبور کر دیا۔

المسیرہ کی رپورٹ کے مطابق یمن کی مسلح افواج کے ترجمان یحیی سریع نے اعلان کیا ہے کہ یمنی فوج کے ڈرون یونٹ نے جنوبی سعودی عرب کے صوبے عسیر میں واقع خمیس مشیط میں قاصف K2، قسم کے ڈرون طیارے کا استعمال کر کے ملک خالد ہوائی اڈے کو اپنے جوابی حملے کا نشانہ بنایا ہے۔

انہوں نے اس ڈرون حملے کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملہ بھی سعودی اتحاد کی وحشیانہ جارحیت اور یمن کے جاری محاصرے کے جواب میں کیا گیا ہے۔

یمنی فوج کے ڈرون یونٹ نے اس سے قبل بھی بارہا فوجی کارروائی کرتے ہوئے جنوبی سعودی عرب کے صوبے عسیر میں واقع خمیس مشیط میں قاصف K2 قسم کے ڈرون طیاروں کا استعمال کر کے ملک خالد ہوائی اڈے کو اپنے جوابی حملے کا نشانہ بنایا تھا۔

دوسری جانب یمن کی نیشنل سالویشن حکومت کے سربراہ عبدالملک بدرالدین الحوثی نے کہا ہے کہ یمن کی مسلح افواج کی دفاعی و جوابی کارروائیاں قانون کے مطابق ہیں اور یمن کی مسلح افواج کی جانب سے جارح سعودی اتحاد کے فوجی ٹھکانوں پر حملوں سے متعلق خـبریں عام طور سے سعودی عرب کا میڈیا منظر عام پر نہیں لاتا، یہی وجہ ہے کہ خمیس مشیط کے ملک خالد ایئر بیس پر ہونے والے تازہ ترین ڈرون حملوں کی تفصیلات منظر عام پر ابھی نہیں آسکی ہیں۔ جنوبی سعودی عرب میں جیزان، ابہا اور ملک خالد ہوائی اڈے حالیہ مہینوں کے دوران یمن کی مسلح افواج کے مسلسل جوابی حملوں کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔

العالم نیوز چینل سے گفتکو کرتے ہوئے یمنی حلقوں کا کہنا ہے کہ امریکہ اور سعودی اتحاد کا یہ دعوی بالکل جھوٹ ہے کہ یمن کی مسلح افواج فائربندی کی راہ میں روڑے اٹکا رہی ہیں ۔ان حلقوں کا کہنا ہے کہ امریکہ کے اس قسم کے الزامات کا مقصد یمن کی مسلح افواج کی کامیابیوں اور جنگی مورچوں پر پیش قدمی کو روکنا ہے اور یمن پر دباؤ بڑھانا ہے۔ 

دوسری جانب یمن کی اعلی سیاسی کونسل کے سیکریٹری یاسر الحوری نے کہا ہے کہ یمن کو امریکہ کی ایما اور اس کی حمایت سے ہی جارحیت کا نشانہ بنایا گیا ہے اور یمن امریکہ کے بنائے ہوئے ایلچی کو یمن کے امور میں نمائندہ تسلیم نہیں کرتا اور یہ امریکہ ہی ہے جو یمن پر جارحیت اور اس ملک میں قتل و غارتگری کا باعث بنا ہوا ہے۔

 

 

ٹیگس