Jul ۱۳, ۲۰۲۱ ۰۵:۵۰ Asia/Tehran
  • اخوان المسلمین کے خلاف مصر کی فوجی عدالت کے فیصلے برقرار

مصر، احوان المسلمین کے رہنماؤں کو عمر قید کی سزاکی توثیق کردی گئي

مصرکی عدالت نے ملک کی سب سے بڑی اسلام پسند جمہوری جماعت اخوان المسلمین کے مرشد عام سمیت 10 رہنماؤں کی عمرقید کی سزا کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔

 قاہرہ کی فوج داری عدالت نے 2019ء میں اخوان کے مرشد عام محمد بدیع سمیت 10رہنماؤں کو پولیس اہل کاروں کی ہلاکت اور جیل توڑنے کے مقدمے میں مجرم قرار دے کر عمرقید کی سزائیں سنائی تھیں۔

ان پر مصر کے سابق مطلق العنان صدر حسنی مبارک کے خلاف 2011ء کے اوائل میں احتجاجی تحریک کے دوران سیکورٹی فورسز پر حملوں اور جیل توڑنے کے الزام تھا۔

فوجداری عدالت نے انہیں مصر میں عوامی احتجاجی تحریک کے دوران میں جیلوں سے 20 ہزار قیدیوں کو فرار کرانے اور فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس اور لبنانی حزب اللہ کے ساتھ مل کر مصر کی قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے الزامات میں قصور وار قرار دیا تھا۔

عدالت کی جانب سے جاری فیصلے میں کہا گیا کہ فیصلہ حتمی ہے اور اس کے خلاف مزید اپیل دائر نہیں کی جا سکتی۔

 یاد رہے کہ مصر کے پہلے منتخب صدر محمد مرسی کو 2013ء میں معزول ہونے کے بعد ملک گیر احتجاج شروع ہوا تھا، جس پر سیکورٹی فورسز نے سخت کریک ڈاؤن کیا تھا۔

کارروائیوں میں اخوان کے سیکڑوں کارکنان مارے گئے تھے جبکہ ہزاروں کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ مصری حکام نے محمد مرسی کو بھی معزولی کے بعد گرفتار کر لیا تھا اور ان کے خلاف مختلف الزامات میں مقدمہ چلایا گیا۔

وہ 2019ء میں ایک مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت میں نڈھال ہوکر گر پڑے تھے اور عدالتی کمرے ہی میں دم توڑ گئے تھے۔ قاہرہ کی فوجداری عدالت کے جج نے بعد میں ان کے خلاف عائد شدہ الزامات کو ختم کر دیا تھا۔

 

ٹیگس