Feb ۱۹, ۲۰۲۲ ۱۶:۱۳ Asia/Tehran
  • فائل فوٹو
    فائل فوٹو

غاصب صیہونی حکومت کے فوجیوں نے غرب اردن اور بیت المقدس میں فلسطینیوں کے پرامن مظاہروں کو کچل دیا جس میں درجنوں فلسطینی زخمی ہو گئے۔

مقبوضہ بیت المقدس میں شیخ جراح کا علاقہ حالیہ دنوں صیہونی فوجیوں اور انتہا پسند غاصب صیہونیوں کی جارحیت و حملوں کی بنا پر کشیدہ صورت حال سے دوچار ہے جہاں فلسطینیوں کے صیہونیت مخالف پرامن احتجاجات کا سلسلہ جاری ہے۔

المیادین کی رپورٹ کے مطابق غاصب صیہونی حکومت کے فوجیوں نے غرب اردن اور بیت المقدس میں فلسطینیوں کے صیہونیت مخالف مظاہروں کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا جس میں کم سے کم ڈیڑھ سو فلسطینی زخمی ہو گئے۔ فلسطین کی ہلال احمر سوسائٹی کا کہنا ہے کہ غرب اردن کے شہر بیتا میں صیہونی فوجیوں نے ربڑ کی گولیوں اور آنسو گیس کا بے تحاشا استعمال کیا جس کے باعث ڈیڑھ سو فلسطینی زخمی ہوگئے۔ زخمیوں میں بعض کی حالت نازک  اور  تشویشناک بنی ہوئی ہے۔

اس علاقے میں ہوئے مظاہروں میں شریک فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ شیخ جراح کے علاقے کے مکینوں سے یکجہتی کے اعلان سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ سرزمین فلسطین کی آزادی بہت قریب ہے۔ بیت المقدس کے ایک سرگرم فلسطینی کارکن احمد خلیفہ نے کہا ہے کہ خودساختہ صیہونی حکومت بیت المقدس کو یہودیوں اور صیہونیوں کا شہر بنانے کی کوشش کر رہا ہے اور وہ شیخ جراح پر قبضہ کر کے مسجد الاقصی کا اہم ترین دروازہ بند کرنا چاہتی ہے۔

شیخ جراح کا علاقہ جو مشرقی بیت المقدس میں واقع ہے سن انیس سو سڑسٹھ سے اب تک بیت المقدس کی آبادی کا نقشہ و تناسب تبدیل کرنے کے مقصد سے ہمیشہ اسرائیل کے نشانے پر رہا ہے تاکہ اس علاقے پر قبضہ کر کے بیت المقدس کی شناخت ختم کی  جا سکے۔

شیخ جراح کے علاقے میں صیہونی فوجیوں کے وحشیانہ اور جارحانہ اقدامات اس علاقے کے شہریوں کی تحریک کو نقصان پہنچانے کی ایک کوشش ہے جہاں کے لوگ صیہونی جارحیت کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں۔

دوسری جانب فلسطین کی وزارت خارجہ نے غزہ کی بارہ روز جنگ کے بارے میں صیہونی حکومت کی جانب سے اقوام متحدہ کی تح‍قیقاتی کمیٹی کے ساتھ تعاون نہ کئے جانے کی مذمت کی ہے۔ سمتبر دو ہزار اکیس کے آخری دنوں میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے اسی سال مئی کے مہینے میں غزہ کی بارہ روزہ جنگ میں غاصب صیہونی حکومت کے جرائم کی تصدیق کی تھی۔

غاصب صیہونی حکومت کے فوجیوں نے دس مئی کو غزہ کے خلاف وحشیانہ جارحیت اور فلسطینیوں کو اپنے حملوں کا نشانہ بنایا۔ اس بارہ  روزہ جارحیت میں دو سو اڑتالیس فلسطینی شہید اور کم سے کم دو ہزار دیگر زخمی ہوئے تھے۔ خود ساختہ صیہونی حکومت کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ غزہ پر حملے اور وہاں انجام پانے والے جرائم کی تحقیقات کے سلسلے میں اقوام متحدہ کی تحقیقاتی ٹیم کے ساتھ کسی بھی قسم کا کوئی تعاون نہیں کیا جائے گا اور اس ٹیم کو مقبوضہ فلسطین میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ 

اس سے قبل فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے ترجمان فوزی برہوم نے اعلان کیا تھا کہ غاصب صیہونی حکومت کے جرائم کے بارے میں تحقیقات سے متعلق بین الاقوامی تنظیموں کے فیصلے سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ صیہونی حکومت کی جارحانہ ماہیت اور فلسطینیوں پر اس غاصب حکومت کے مظالم عالمی برادری کے لئے مکمل آشکار ہو گئے ہیں۔

ٹیگس