اسرائیل کا دعوی، حماس کی سب سے بڑی سرنگ کا انکشاف
اسرائیل نے دعوی کیا ہے کہ حماس کی جانب سے کھودی گئی سب سے بڑی سرنگ کا پتہ لگا لیا ہے۔
صیہونی فوج نے دعوی کیا ہے کہ غزہ پٹی کی سرحد کے پاس تحریک حماس کی جانب سے کھودی گئی سب سے بڑی سرنگ کا پتہ چل گیا ہے۔ رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ در اندازی کے مقصد سے یہ سرنگ کھودی گئی تھی۔
اسرائیل کے چینل-24 کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ یہ ٹنل جنوبی علاقے میں، 70 میٹر زمین کے اندر کھودا گیا تھا۔ اسرائیلی فوجی افسر کا دعوی ہے کہ یہ اسرائیل کو پتہ چلنے والی سرنگوں میں اب تک کی سب سے بڑی سرنگ ہے۔ اسرائیلی فوجی افسرکا کہنا تھا کہ یہ سرنگ حماس نے بنائی تھی۔
اسرائیلی فوج کا دعوی ہے کہ فوجیوں نے اکتوبر 2020 میں سرنگ کو فلسطینی علاقوں کی سرحد پر بنائے گئے اینٹی ٹنل وال سسٹم سے سگنل ملنے کے بعد دریافت کیا تھا۔ سگنل جنوبی غزہ کے شہر خان یونس سے شروع ہوا۔
یہ ایسی حالت میں ہے کہ اسرائیلی فوج کے ذرائع نے صیہونی چینل-24 آئی سے بتایا کہ ممکن ہے کہ حماس برسوں سے یہ سرنگ بنانے میں مصروف رہا ہو جبکہ اینٹی ٹنل وال سسٹم ایک سال پہلے اور چار سال کی کوششوں کے بعد مکمل ہوا۔
اس سے پہلے صیہونی حکام نے دعوی کیا تھا کہ غزہ پٹی کو اسرائیل سے الگ کرنے والی حفاظتی باڑ سے چند میٹر کے فاصلے پر ایک سرنگ کی نشاندہی کی گئی ہے۔