یمن پر سعودی جارحیت اور عالمی برادری کی ڈرامائی خاموشی
مغربی یمن کے صوبے الحدیدہ پر جارح سعودی اتحاد کے حملوں میں، متعدد عام شہریوں کے مارے جانے کی خبر ہے۔
المسیرہ ٹی وی کے مطابق، سعودی امریکی فوجی اتحاد نے صوبہ الحدیدہ کے شہر حیس کے رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا ہے جس میں ایک کم سن بچی شہید اور چار دیگر افراد زخمی ہوگئے۔
عالمی برادری کی خاموشی کے درمیان سعودی امریکی فوجی اتحاد، یمنی عوام کے خلاف جنگی جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے اور سات سال سے جاری اس جارحیت میں آٹھ ہزار کے قریب کم سن یمنی بچے شہید اور زخمی ہوچکے ہیں۔
انتصاف نامی انسانی حقوق مرکز کے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، یمن کے خلاف سعودی امریکی جارحیت کے آغاز سے لیکر اب تک تین ہزار آٹھ سو یمنی بچے شہید اور چار ہزار دو سو چھپن بچے زخمی ہوئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سعودی جارحیت میں تقریبا چھے ہزار عام شہری جسمانی طور پر معذور ہوئے ہیں جن میں پانچ ہزار پانچ سو سے زائد بچے ہیں۔
انسانی حقوق کی مذکورہ تنظیم کی مرتب کردہ رپورٹ میں آیا ہے کہ اسکول جانے کے قابل تقریبا ایک کروڑ یمنی بچوں میں سے چوبیس لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہوچکے ہیں۔
یمنی قوم کی ہمہ گیر ناکہ بندی اور محاصرے کے سبب پانچ سال سے کم عمر کے تقریبا تئیس لاکھ بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔
سعودی عرب نے مارچ دوہزار پندرہ میں امریکہ کی حمایت اور متحدہ عرب امارات نیز بعض دوسرے ملکوں کے ساتھ مل کر یمن کے خلاف جنگ کا آغاز کیا تھا اور مغربی ایشیا کے اس غریب عرب اسلامی ملک کا زمینی ، فضائی اور سمندری محاصرہ بھی کر رکھا ہے۔
سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی وحشیانہ جارحیت میں کئی لاکھ یمنی شہری شہید اور زخمی ہوئے ہیں اور دسیوں لاکھ کو اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔
یمن کے خلاف سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی جارحیت میں یمن کا پچاسی فیصد بنیادی ڈھانچہ تباہ جبکہ غذائی اشیا اور دواؤں کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔
اقوام متحد ہ کا کہنا ہےکہ یمن اس وقت بدترین انسانی بحران کا شکار ہے اور تقریبا تین کروڑ آبادی میں سے اسی فی صد لوگوں کو زندہ رہنے کے لیے بیرونی امداد کی ضرورت ہے۔
انسانی امداد سے متعلق اقوام متحدہ کے انڈر سیکریٹری مارٹن گریفتس نے کچھ عرصہ قبل کہا تھا کہ یمن کو تاریخ کے بدترین انسانی المیے کا سامنا ہے۔