Nov ۲۲, ۲۰۲۲ ۲۰:۲۵ Asia/Tehran
  • دنیا فٹبال ورلڈ کپ کے مزے لے رہی ہے اور آل سعود مصروف ہے دوسرے کام میں

سعودی عرب میں ایک مہینے سے بھی کم عرصے میں 17 افراد کو سزائے موت دی گئی ہے۔

سحر نیوز/ عالم اسلام: اقوام متحدہ کی رپورٹ میں اس بات کی تائید کی گئی ہے۔ اقوام متحدہ نے اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب نے 10 نومبر سے اب تک 17 افراد کو سزائے موت دی ہے جن میں گزشتہ روز 21 نومبرکو 3 افراد کی سزائے موت بھی شامل ہیں۔

"المیادین" چینل کی ویب سائٹ کے مطابق اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں سزائے موت پر عمل درآمد، سزائے موت کے فیصلے بعد ہی دی جاتی ہے، اس لیے مناسب وقت پر سزائے موت پانے والے افراد کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں ہو پاتی۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بعض رپورٹس کے مطابق اردنی شہری "حسین ابوالخیر" کو کبھی بھی سزائے موت دی جا سکتی ہے جبکہ ان کی حالت صحیح نہيں ہے۔

18 نومبر کو اے ایف پی کی طرف سے سامنے آنے والے اعداد و شمار کے مطابق، سعودی عرب میں 2022 میں گزشتہ سال کے مقابلے میں دو گنا زیادہ افراد کو سزائے موت دی گئی ہے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں اضافے پر شدید برہم ہیں۔

سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی واس نے بھی گزشتہ جمعرات 17 نومبر کو رپورٹ دی تھی کہ حکومت ریاض نے ایک سعودی اور ایک اردنی شہری کو ملک کے الجوف علاقے میں غیر قانونی ایمفیٹامین گولیاں اسمگل کرنے کے جرم میں سزائے موت دے دی ہے۔

ٹیگس