Aug ۲۴, ۲۰۲۳ ۱۶:۱۹ Asia/Tehran
  • سعودی عرب کو امریکی ہتھیاروں پر بھروسہ نہیں

ایک امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ سعودی عرب امریکی ہتھیاروں پر عدم اطمینان کی وجہ سے فرانسیسی لڑاکا طیارے خریدنا چاہتا ہے۔

سحر نیوز/ عالم اسلام: تسنیم نیوز کے مطابق، امریکی میڈیا "بزنس انسائیڈر" نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے فرانسیسی جنگی طیاروں کو خریدنے کی خواہش، امریکہ سے ملنے والے ہتھیاروں پر ملک کی عدم اطمینان کو ظاہر کرتی ہے۔

خلیج آن لائن کے مطابق اس رپورٹ کی بنیاد پر امریکہ اور دیگر مغربی ممالک شاید مستقبل میں ریاض کو فوجی ساز و سامان فراہم نہ کریں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ اکتوبر میں ریاض کی تیل کی پیداوار میں کمی کے بعد امریکی قانون سازوں نے سعودی عرب کو امریکی ہتھیاروں کی فروخت روکنے کے لیے قانون سازی کی تجویز پیش کی تھی جس سے ریاض اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔

جرمنی نے بھی گزشتہ جولائی میں اعلان کیا تھا کہ وہ یورو فائٹر ٹائفون جنگی طیاروں کی سعودی عرب کو ترسیل کی اجازت نہیں دے گا۔

گزشتہ دسمبر کے مہینے میں فرانسیسی اخبار "لا تریبیون" نے انکشاف کیا تھا کہ سعودی عرب 100 سے 200 ڈسالٹ رافیل لڑاکا طیارے خریدنا چاہتا ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق امریکہ اور جرمنی کی جانب سے سعودی عرب کو ہتھیار فروخت کرنے سے انکار کے بعد فرانسیسی رافیل لڑاکا طیارے ریاض کے لیے ایک پرکشش آپشن ہو سکتے ہیں، خاص طور پر چونکہ روسی یا چینی لڑاکا طیاروں کی خریداری کے نتیجے میں امریکی پابندیاں عائد ہوسکتی ہیں اور سعودی عرب کی خواہشات کو نقصان پہنچا سکتی ہے اور یہ راستہ سعودی عرب کے لئے سب سے محفوظ ہو سکتا ہے۔

ٹیگس