تہران واشنگٹن تناؤ برقرار، بحران روکنے کیلئے سفارتی رابطے جاری
امریکہ کی جانب سے بڑھتی ہوئی دھمکیوں اور فوجی سرگرمیوں کے ساتھ تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی کے امکانات پر قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں، تاہم سفارتی پیغامات، رابطوں اور علاقائی کوششوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ بحران کو قابو میں رکھنے کے لئے بھی سنجیدہ اور ہم آہنگ کوششیں جاری ہیں۔
سحرنیوز/ایران: ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے ایکس پیچ پر کہا ہے کہ میڈیا کی طرف سے بنائی گئی خودساختہ جنگی فضا کے برعکس، مذاکرات کے لیے ایک ڈھانچہ بتدریج تشکیل پا رہا ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جب قطر کے وزیراعظم و وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی تہران میں موجود ہیں۔
لاریجانی کے بیان کو ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے پس پردہ سفارتی کوششوں کا اشارہ قرار دیا جا رہا ہے، جن کا مقصد حالات کو براہ راست تصادم کی طرف جانے سے روکنا ہے۔
اسی سلسلے میں قطر نے ایک بار پھر ثالث کا کردار ادا کیا۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel
قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے تہران میں ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی اور علی لاریجانی سے ملاقات کی۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق یہ دورہ علاقائی مشاورت، امن و استحکام کے تحفظ اور کشیدگی میں کمی کے لیے تھا۔قطر کی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ دونوں فریقوں نے خطے میں کشیدگی کم کرنے، پرامن حل کی حمایت اور فوجی تصادم کے نقصانات سے عوام کو بچانے پر زور دیا۔
قطر نے واضح کیا کہ مشرق وسطی میں امن و سلامتی صرف مکالمے اور سفارتکاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔یہ سفارتی سرگرمیاں ظاہر کرتی ہیں کہ خطے کے ممالک جنگ کے بجائے بات چیت اور تعاون کے ذریعے بحران سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حالیہ پیش رفتوں کا مجموعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بلند و بانگ دھمکیوں، فوجی مشقوں اور میڈیا جنگ کے علاوہ ایک ایسی منطق بھی کارفرما ہے جو “شدید محاذ آرائی” کے بجائے “بحران کو منطقی طور حل کرنے پر مبنی ہے۔ اسی تناظر میں علاقائی رہنماؤں کو تہران واشنگٹن کشیدگی کو قابو میں رکھنے کے لیے صف اول میں لایا جا رہا ہے۔
قومی سلامتی کی اعلیٰ کونسل کے سیکریٹری کا مختصر مگر بامعنی پیغام، سفارتی سطح پر تیز رفتاری سے ہونے والے دورے اور رابطے، اور قطر، ترکیہ، مصر سمیت دیگر ہمسایہ ممالک کا بیک وقت کردار یہ سب ایک خاموش، کثیرالجہتی سفارتی نیٹ ورک کے بننے کی علامت ہیں، جس کا بنیادی مقصد غلط فہمیوں کا راستہ روکنا اور کسی غیر ارادی تصادم سے بچاؤ ہے۔
اس فریم ورک میں ایران اپنی ریڈ لائنوں کو برقرار رکھتے ہوئے علاقائی سیاست میں اختیار اپنے ہاتھ میں رکھنے کی کوشش کر رہا ہے اور یہ دکھانا چاہتا ہے کہ میڈیا کے شور و غوغا کے برخلاف “مذاکرات” اب بھی ایک فعال اور قابل عمل آپشن ہیں۔