حیفا یونیرسٹی کے پروفیسر نے اسرائیل کی کھولی پول!
https://urdu.sahartv.ir/news/islamic_world-i454442-حیفا_یونیرسٹی_کے_پروفیسر_نے_اسرائیل_کی_کھولی_پول!
ایک برجستہ صیہونی مبصر نے واشنگٹن سے تل ابیب کی بڑھتی وابستگی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بقول ان کے تل ابیب میں ماضی کی طرح اسٹریٹیجک خودمختاری نہیں رہی نہ ہی اس میں ایران کے ساتھ طویل المدت مقابلہ آرائی کی صلاحیت ہے۔
(last modified 2026-07-28T09:49:02+00:00 )
Jul ۲۸, ۲۰۲۶ ۱۳:۰۹ Asia/Tehran
  • حیفا یونیرسٹی کے پروفیسر نے اسرائیل کی کھولی پول!

ایک برجستہ صیہونی مبصر نے واشنگٹن سے تل ابیب کی بڑھتی وابستگی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بقول ان کے تل ابیب میں ماضی کی طرح اسٹریٹیجک خودمختاری نہیں رہی نہ ہی اس میں ایران کے ساتھ طویل المدت مقابلہ آرائی کی صلاحیت ہے۔

سحرنیوز/عالم اسلام: حیفا یونیرسٹی کے اسٹریٹیجک امور کے پروفیسر امتسیا برعام نے "معاریو" اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ صیہونی حکومت کو اس وقت فوجی، اسٹریٹیجک اور سیاسی محاذوں پر گہرے مسائل کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ جنگی حالات نے ثابت کردیا کہ صیہونی حکومت بری طرح واشنگٹن سے وابستہ ہے۔

حیفا یونیورسٹی کے پروفیسر نے دعوی کیا کہ ایران کے خلاف جو کچھ اسرائیل کر رہا ہے بقول ان کے اس کا فیصلہ امریکہ میں ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل ہمیشہ کسی حد تک امریکہ سے وابستہ رہ چکا تھا لیکن یہ وابستگی کبھی بھی اس حد تک نہیں پہنچی تھی جس کا مشاہدہ آج کیا جا رہا ہے۔

ہمیں فالو کریں:  

Follow us: FacebookXinstagram, tiktok  whatsapp channel

امتسیا برعام نے اعتراف کیا کہ صیہونی حکومت میں ایران کے ساتھ مسلسل اور طویل المدت جھڑپوں کی صلاحیت پائی نہیں جاتی نہ ہی اس کی معیشت اور معاشرہ حتی کہ فضائیہ ہر چند مہینے میں تہران کے ساتھ جھڑپوں کے لیے بنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر بھی اسرائیل کی شبیہ بگڑ چکی ہے یہاں تک کہ تل ابیب کو احتیاط اور شک بھری نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور امریکی رائے عامہ بھی صیہونی حکومت کے خلاف ہوگیا ہے۔