Sep ۱۴, ۲۰۱۵ ۱۵:۲۵ Asia/Tehran
  • سعود الفیصل کے قتل میں سعودی شہزادے کا ہاتھ
    سعود الفیصل کے قتل میں سعودی شہزادے کا ہاتھ

عرب ذرائع نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ سعود الفیصل کے قتل میں، شاہ سلمان کے بیٹے کے ملوث ہونے کی خبر دی ہے-

الاتحاد پریس کی رپورٹ کے مطابق اخبار الحیات کو ایک ایسا ایمیل موصول ہوا ہے کہ جس میں سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی برطرفی اور ان کے قتل کے مبینہ منصوبے کا ذکر کیا ہے۔
 یہ ایمیل کہ جس کے بھیجنے والے کا نام واضح نہیں ہے، سعود الفیصل کو برطرف کئے جانے اور ان کے قتل کے بارے میں ثبوت و شواہد پر مشتمل ہے- اس ایمیل میں تحریر ہے کہ سعود الفیصل، بادشاہ سلمان اور اس کے بیٹے کی پالیسیوں سے سخت نالاں تھے اور اسی لئے وہ ان پالیسیوں پر عمل درآمد سے اجتناب کرتے تھے-اس ایمیل کے مطابق شاہ سلمان اور اس کے بیٹے نے بین الاقوامی اداروں میں سعود الفیصل کی ساکھ اور وقار سے فائدہ اٹھانے کے بعد انہیں بیماری کےبہانے  عہدے سے ہٹا دیا۔ جبکہ سعود الفیصل مدتوں قبل حتی ملک عبداللہ کے دور میں بھی بیمار رہتے تھے۔
اس رپورٹ کے مطابق محمد بن سلمان اور ایک نامعلوم شخص کے درمیان انجام پانے والی مشکوک ٹیلفونی گفتگو بھی موجود ہے کہ جس میں محمد بن سلمان، سعود الفیصل کی صحت اور اس کے زندہ ہونے کے بارے میں اس شخص سے سوال کر رہے ہیں اور فریق مقابل بھی اس کے جواب میں کہتا ہے کہ آپ کے احکامات پر عمل ہو رہا ہے-
 سعود الفیصل کی موت کی خبر کے اعلان کے بعد ان کی تیمارداری پر مامور نرس کے لاپتہ ہوجانے کے سبب اس مسئلے میں شکوک و شبہات بڑھ گئے ہیں- محمد بن سلمان کے مخالف شہزادوں کو اس جیسے واقعے کی تکرار سے شدید تشویش لاحق ہے-

ٹیگس